’درجۂ حرارت میں اضافے کاسلسلہ رک رہا ہے‘

سمندر
،تصویر کا کیپشنتغیراتی عمل بحرِ اوقیانوس کے شمالی حصے میں جاری ہے۔

ایک اہم ماحولیاتی سائنسدان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند عشروں سے اوسط عالمی درجۂ حرارت میں ہونے والے اضافے کا سلسلہ اب کچھ عرصے کے لیے رک رہا ہے۔

جرمنی کی کیل یونیورسٹی کی کے پروفیسر مجیب لطیف کا کہنا ہے کہ آنے والے دس برس میں درجۂ حرارت میں اضافے کا رجحان ختم ہو جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بات کا امکان بھی ہے شمالی اٹلانٹک میں سمندری روؤں اور سمندر کے درجۂ حرارت میں سائکلیکل تبدیلیوں کی وجہ سے درجۂ حرارت میں کمی ہونا شروع ہو جائے۔

پروفیسر لطیف کا کہنا ہے کہ ’سمندر میں مختلف قسم کے تغیرات رونما ہوتے رہتے ہیں اور ایسا ہی ایک تغیراتی عمل بحرِ اوقیانوس کے شمالی حصے میں جاری ہے۔ ہم اسے اوقیانوس کا وسط عشری تغیر کہتے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اسی تغیر کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا ہے کہ ہم نے درجۂ حرارت میں اضافے کا جو عالمی رجحان گزشتہ چند عشروں میں دیکھا ہے اس میں اب رکاوٹ آنے والی ہے۔

پروفیسر لطیف کے مطابق ’اب درجۂ حرارت کچھ عرصے تک کم و بیش ایک جیسا ہی رہے گا تاہم اس کے بعد ایک مرتبہ پھر اس میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا‘۔

خیال رہے کہ درجۂ حرارت میں اضافہ نہ ہونے سے متعلق یہ تحقیق اس وقت سامنے آئی ہے جب رواں ماہ ہی ایک تحقیق میں ماحولیاتی ماہرین نے قطب شمالی کے علاقے آرکٹک میں دو ہزار سال میں سب سے زیادہ درجہ حرارت درج کیا تھا۔

درجہ حرارت کا پتہ چلانے کے لیے ماہرین نے برف، درختوں اور جھیلوں کی تہہ میں مواد کا تجزیہ کیا۔ ان ماہرین نے جریدے سائنس میں لکھا ہے کہ نئی تحقیق سے اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ آرکٹک کا علاقہ بہت حساس ہے جہاں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور شمسی حرارت میں معمولی سی تبدیلی کا اثر ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ تحقیق کے لیے تئیس مقامات سے نمونے حاصل کیے گئے جن سے عشرہ بہ عشرہ اعداد و شمار جمع ہوئے۔ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ سن انیس اٹھانوے سے لے کر دو ہزار آٹھ گرم ترین دہائی تھی۔