مغرب کو میک کرسٹل کا دوٹوک انتباہ

- مصنف, مارٹن پیشنس
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کابل
امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل کی ذرائع ابلاغ کے ہاتھ لگنے والی رپورٹ نہ صرف افغانستان میں بیرونی افواج کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں دو ٹوک اور مایوس کن جائزہ پیش کرتی ہے بلکہ ممکنہ ناکامی کے وقت کی بھی پیش گوئی کرتی ہے۔
مختصراً کہا جائے تو جنرل میک کرسٹل اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ امریکہ کو یہ جنگ ہارنے میں بارہ مہینے یعنی ایک سال لگ سکتا ہے۔
اس شکست سے بچنے کے لیے وہ جن چیزوں پر زور دیتے ہیں اس میں سرِ فہرست افغانستان کے لیے مزید افواج کی فراہمی ہے جس کے ساتھ ساتھ وہ افغان سکیورٹی افواج کی تربیت کو تیز تر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
توقع کی جاتی ہے کہ جنرل میک کرسٹل آئندہ چند ہفتوں میں مزید تیس ہزار فوجیوں کی فراہمی کے لیے کہہ سکتے ہیں۔
لیکن ایک تو افغانستان میں عیب دار انتخابات کا کوئی حل ابھی تلاش کیا جانا ہے اور پھر خود صدر اوباما کی اپنی ڈیمو کریٹک پارٹی میں جنگ کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ کسی فیصلہ پر پہنچنے اور وسائل مہیا کرنے سے پہلے حکمت عملی پر اتفاقِ رائے حاصل کرنا ضروری ہے۔
تاہم جہاں تک افغان سکیورٹی افواج کی تربیت تیز کرنے کے بارے میں جنرل میک کرسٹل کی تجویز کا تعلق ہے تو اس کی بالعموم حمایت ہی کی جائے گی۔
جہاں تک مغرب کا تعلق ہے تو جنرل میک کرسٹل کا انتباہ اس کے لیے افغانستان سے نکلنے کی حکمتِ عملی فراہم کرتا ہے۔ کیونکہ جوں جوں افغان فوج کا تجربہ اور تعداد بڑھے گی ان کے لیے اپنے فوجیوں کو افغانستان سے نکالنا ممکن ہوتا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان حکومت بھی میک کرسٹل کی تجاویز کا خیر مقدم ہی کرے گی کیونکہ وہ بھی ایک عرصے سے اپنی افواج کی تربیت میں زیادہ سے زیادہ اضافے پر زور دیتی رہی ہے۔
اس کے علاوہ وہ اس کا بھی خیر مقدم کرے گی کہ شورشیوں کو گرفتار اور ہلاک کرنے کے برخلاف افغان آبادی کے نفسیاتی اور عملی تحفظ کو زیادہ ترجیح دی جائے۔
امریکی کمانڈر کہتے ہیں کہ ’اپنی ہار کی وجہ ہم خود بھی بن سکتے ہیں‘۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شہریوں کو تشدد سے بچانے کے لیے براہ راست لڑائی کو کم کر کے شہریوں کے تحفظ کے لیے عام گشت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ فوجی زیادہ خطرے سے دوچار رہیں گے جو ضروری نہیں کہ خود فوجیوں اور کچھ مغربی دارالحکومتوں کو اچھا لگے۔
جنرل میک کرسٹل کا کہنا ہے کہ ’یہ لڑائی صرف فوج سے نہیں جیتی جا سکتی‘۔
بات ٹھیک بھی ہے۔ فوج تحفظ دے سکتی ہے لیکن ملازمتیں، صحت کی سہولتیں اور بچوں کو سکول جانے کے مواقع نہیں دے سکتی۔
یہ کام افغان حکومت کا ہے جس کے بارے میں جنرل میک کرسٹل نے اشارہ دیا ہے کہ بدعنوانیوں کی شکار اور عوام کی وسیع حمایت سے محروم ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھی جانتے ہیں کہ انہیں افغان حکومت کو مزید بہت کچھ کرنے پر آمادہ کرنا اور اس کی مدد کرنا ہے تا کہ وہ اپنے لوگوں کو قانون کی عملداری اور بہتر خدمات فراہم کر سکے۔
لیکن یہ آسان بات نہیں ہے۔ کچھ سفارتکاروں کا تو کہنا ہے کہ اس کام کی تکمیل میں کئی نسلیں صرف ہو سکتی ہیں۔
طالبان بھی اس بات کو سمجھتے ہیں اور اس کا فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ وہ اپنا اثر بڑھا رہے ہیں اور مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرتے جا رہے ہیں۔
کئی جگہ انہوں نے اپنی متبادل حکومتیں تک بنا رکھی ہیں ان کی عدالتیں ہیں جو لوگوں کو فوری انصاف بھی مہیا کرتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس ٹکراؤ کا نتیجہ کیا ہو گا۔ افغان اپنے لیے ان دونوں میں سے کس کا انتخاب کریں گے۔ کیا لوگ ایک ایسی حکومت کا انتخاب کریں گے جو مغرب کے سہارے پر ہو یا آخر کار وہ اپنا بوجھ طالبان کے پلڑے میں ڈالنا پسند کریں گے۔
یہ ہوتا ہے لبِ لباب، جب جنرل میک کرسٹل جنگ جیتنے یا ہارنے کی بات کرتے ہیں۔






















