سوماٹرا زلزلہ: گیارہ سو افراد ہلاک

اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جزیرے سُوماٹرا میں آنے والے زلزلے میں کم از کم گیارہ سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ زلزلے میں کئی سو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس سے پہلے انڈونیشیا کی حکومت نے کہا تھا کہ زلزلے میں کم از کم سات سو ستر افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ چوبیس سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر خراب موسم کی وجہ سے متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
سوماٹرا کے مغربی صوبے کے دارالحکومتی پڈانگ کے قریبی علاقے میں پہلے بدھ کی شام سات اعشاریہ چھ شدت کا زلزلہ آیا تھا جبکہ جمعرات کی صبح اسی علاقے میں آنے والے چھ اعشاریہ آٹھ شدت کے ایک اور زلزلے نے جزیرے کو ہلا ڈالا تھا۔
<bold><link type="page"><caption> زلزلے سے تباہی کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/10/091001_pics_sumatra_quake_zs.shtml" platform="highweb"/></link></bold>
انڈونیشیا کی سماجی بہبود اور صحت کی وزارتوں نے سات سو ستر افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
جکارتہ میں انڈونیشیا کی وزارتِ صحت کے ہنگامی مرکز کے سربراہ رستم پکایا کے مطابق ’ہماری پیشن گوئی کے مطابق ان زلزلوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے انڈونیشیائی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک زلزلے سے تباہ شدہ علاقے سے پانچ سو انتیس لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ چار سو سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔
انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں یہ ایک بڑا زلزلہ ہے۔ ’یہ سنہ دو ہزار چھ میں آنے والے زلزلے سے بھی زیادہ مہلک ہو سکتا ہے۔ اس زلزلے میں تین ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے‘۔

زلزلے کے نتیجے میں سینکڑوں عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں جن میں دو ہسپتال بھی شامل ہیں۔ زلزلے کے بعد متاثرہ علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہے جبکہ جگہ جگہ سے مٹی کے تودے گرنے کی اطلاعات ہیں۔ انڈونیشیا کے قومی ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان پریادی کردونو کے مطابق زلزلے سے پانچ سو سے زائد گھر اور عمارتیں منہدم ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بہت سے لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور کچھ لوگ سرکاری عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں‘۔
پڈانگ میں امدادی کاموں میں مصروف ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ بہت سے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ پہلے میرا خیال تھا کہ مرنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے لیکن مرنے والوں اور ملبے میں پھنسے ہوئے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے‘۔ پڈانگ کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ’ہمیں امداد کی فوری ضرورت ہے۔ ہمیں خوراک اور ادویات درکار ہیں، ہمارے گھر گر چکے ہیں‘۔
انڈونیشیائی حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں میں پولیس اور محکمۂ صحت کے اہلکاروں کے علاوہ ڈیڑھ سو فوجی بھی شریک ہیں تاہم انہیں ملبے اٹھانے کے لیے بھاری مشینری درکار ہے اور خراب موسم اور تیز بارش کی وجہ سے متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات درپیش آ رہی ہیں۔.
سوماٹرا میں زلزلوں کے بعد بحر الکاہل میں سونامی سے آگاہ کرنے والے سینٹر نے سونامی کی وارننگ جاری کی تھی جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔ خیال رہے کہ منگل کی رات بحرالکاہل میں بھی ایک زلزلہ آیا تھا اور اس سے شروع ہونے والی سونامی سے مجمع الجزائر میں سموا اور امریکی سموا جزائر میں ایک سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ادھر سوماوا اور امریکی سوماوا میں زلزلے کے بعد امدادی کارراوائیاں جاری ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد دیہات میں مدد کے انتظار میں ہیں۔





















