بیروت ڈائری: وائن کی صنعت میں واحد خاتون

- مصنف, شاہ زیب جیلانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بیروت
شمالی لبنان میں بترون کے ساحلی علاقے کی سرسبز پہاڑیوں سے نیچے دیکھیں تو سمندر کا نظارہ بڑا دلکش لگتا ہے۔ میں یہاں دارلحکومت بیروت سے کوئی ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت طے کر کے ایک خاتون سے ملنے آیا ہوں۔
اُن کا نام ہے نائلہ بِتار اور کام ہے شراب بنانا! وہ لبنان کی وائن کی صنعت میں واحد خاتون ہیں جو اپنے انگور خود اُگاتی ہیں اور وائن فیکٹری چلاتی ہیں۔
میرے پہنچنے پر انہوں نےگرم جوشی سے میرا خیر مقدم کیا اور وہاں موجود اپنے عملے سے ملوایا۔ موسم اچھا تھا سو ہم ان کے گھر کے باہر ہی ان کے برآمدے میں کھلے آسمان تلے کرسوں پر بیٹھے گئے۔ ان کی وائن فیکٹری پہاڑی پر واقع یورپی طرز کے ان کے گھر کے بلکل برابر میں قائم ہے جہاں سے اردگرد زیتون کے درخت اور انگور کے باغ دکھائی دیتے ہیں۔
ہمیں وائن پینے کے آداب پرگفتگو کرتے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ میز کو لبنانی کھانوں اور وائن کی مختلف اقسام کی بوتلوں اور کرسٹل گلاسوں سے سجا دیا گیا۔

گفتگو کے دوران جلد اندازہ ہوگیا کہ نائلہ بِتار کو اپنی وائن کے اعلٰی معیار پر بڑا فخر ہے، کیونکہ بقول اُن کے، اچھی وائن بنانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انگور کی پیداوار کے لیے لبنان کا موسم اور یہاں کی زرخیز مٹی نہایت ہی موزوں ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’اچھی وائن بنانے کے لیے آپ کو اس کام سے عشق ہونا چاہیئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ دل سے ، پیار سے اور محنت سے وائن بنائیں گے تبھی جا کر ایسی شے بنے گی جسے لوگ چکھیں تو مزا آ جائے گا‘۔
جب میں نے نائلہ سے پوچھا کہ کیا کبھی حِزب اللہ والوں نے یا کسی اور نے اعتراض کیا کہ آپ کے اس کام سے اسلام خطرے میں پڑ جائے گا؟ تو ان کا جواب تھا’جی نہیں۔میرے علاقے میں مسلمان کم ہیں اور عیسائی زیادہ۔ لیکن جن علاقوں میں حزب اللہ کا اثر ہے، وہاں بھی انہوں نے کبھی اس معاملےمیں ٹانگ اڑانے کی کوشش نہیں کی۔ اُن کا ایجنڈا اسرائیل کے خلاف لڑائی ہے ، لبنان میں کوئی اسلامی ریاست قائم کرنا نہیں‘۔
نائلہ بتار نے مزید کہا کہ لبنان میں وائن کلچر آج کی بات نہیں بلکہ یہ اس خطے کی تہذیب وتمدن کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لبنان میں کوئی ایک صدی پہلے عیسائی علاقوں میں پادری روایتی طور پر غاروں میں وائن بنایا کرتے تھے۔عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ انجیل میں حضرت عیسیٰ کے جس پہلے کرشمے کا ذکر ہے جس میں انہوں نے پانی کو شراب میں تبدیل کردیا تھا وہ واقعہ موجودہ لبنان کے جنوبی قصبے ’کانا، میں پیش آیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

نائلہ بِتار کے مطابق لبنان میں خانہ جنگی کے برسوں کے دوران باقی معیشت کی طرح یہاں کی وائن کی صنعت کو بھی دھچکا لگا۔ لیکن حالیہ برسوں میں لوگوں کا پھر اس طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں ملک میں وائن بنانے والی فیکٹریوں کی تعداد پندرہ سے بڑھ کر تیس ہوگئی ہے۔
لبنانی وائن کے محقق مائیکل کرم کہتے ہیں’لبنانی وائن بنیادی طور پر ایک اچھی وائن ہے۔ ہم چاہیں تو اس کے ذریعے لبنان کا عالمی امیج درست کرسکتے ہیں‘۔
ان کے مطابق دنیا میں کہیں بھی جب شوقین لوگ وائن خریدتے ہیں تو وہ محض انگور کا نشہ آور رس نہیں خرید رہے ہوتے بلکہ وہ خود کو اس علاقے میں محسوس کرنا چاہتے ہیں جہاں سے وائن بن کرآتی ہیں۔ وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ چِلی، ارجنٹینا اور جنوبی افریقہ جیسے مسائل سے بھرپور ملکوں نے اپنی وائن کی بہتر مارکٹنگ کے ذریعے ہی دنیا میں اپنا تاثر بدل ڈالا۔
لیکن ملکوں کی ایسی کسی بھی کوشش میں اُن کی حکومت کا اہم کردار ہوتا ہے۔ لیکن لبنان کا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں تو کئی مہینوں سے نئی حکومت کا کوئی نام و نشان ہی نہیں!




















