’مزید فوجی بھیجنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا‘

جان کیری
،تصویر کا کیپشن’مزید فوجی بھیجنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا‘

امریکی سینیٹر جان کیری نے متنبہ کیا ہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات کے نتائج کا حتمی فیصلہ ہونے سے قبل وہاں مزید فوجی بھیجنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا۔

جان کیری کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب حکام صدر کرزئی پر زور دے رہے ہیں انہیں یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ ان کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کا امکان ہے۔ (افغان آئین کے مطابق اگر انتخابات میں کوئی بھی امیدوار پچاس فیصد ووٹ حاصل نہ کرسکے تو پہلے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ ووٹنگ کروائی جاتی ہے۔)

خیال ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے بعد کرزئی کے ووٹوں کی تعداد پچاس فیصد سے کم رہ جائیں گے۔

اسی دوران امریکہ وہاں مزید 40,000 فوجی تعینات کرنے کی تجویز پر غور کررہا ہے۔

نیٹو کے لیے امریکی جنرل سٹینلے میکرسٹل نے تجویز دی ہے کہ امریکہ افغانستان کے لیے اپنے لائحہ عمل پر غور کے دوران وہاں مزید فوجی بھیجنے پر بھی غور کرے۔

افغانستان میں امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجی طالبان عسکریت پسندوں سے برسر پیکار ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 20 اگست کے صدارتی انتخابات کے بعد سے وہاں کے حالات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔

جان کیری نے کابل میں ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ ’ایسے وقت پر اوباما کی جانب سے مزید فوجی یہاں بھیجنے کا اقدام غیر ذمہ دارانہ ہوگا جب یہ بھی واضح نہیں ہے کہ افغانستان کا اگلا صدر کون ہے‘۔

جان کیری ان غیر ملکی اعلٰی حکام میں سے ایک ہیں جو اس ہفتے کے اختتام پر افغان رہنماؤں سے ملاقات کررہے ہیں۔

انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق کرزئی نے 55 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے مد مقابل عبداللہ عبداللہ کے ووٹوں کی شرح 28 فیصد رہی۔ تاہم اقوام متحدہ کی نگرانی میں الیکٹورل کمپلینٹس کمیشن نے ووٹنگ کے عمل میں دھاندلی کے الزامات کے بارے میں تحقیق کروائی۔ یہ کمیشن اپنی رپورٹ انڈپنڈنٹ الیکشن کمیشن کو دے گا جو کہ ووٹنگ کی شرح کا حتمی فیصلہ کرنے کا مجاز ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے امکان پر ہی صدر حامد کرزئی شدید مشتعل ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ اس اقدام میں تاخیر یا رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔