کرادِچ: ’نسل کشی مہم کی قیادت کا الزام‘

استغاثہ کے وکلاء نے سابق سرب رہنما رادووان کراِدچ کو نسل کشی کی مہم کا سرغنہ قرار دیا ہے۔
نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم اقوام متحدہ کے جنگی جرائم ٹریبیونل میں بوسنیا کے ہزاروں مسلمانوں کے قتل اور دوسرے جنگی جرائم کے مقدمے کی سماعت کے دوسرے روز بھی کرادچ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
تاہم عدالت نے فیصلہ کیا کہ مقدمے کی سماعت ان کے بائیکاٹ کے باوجود شروع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کرادِچ نے عدالت کے سامنے پیش ہونے کے اپنے حق کو نہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں اس کے نتائج بھی قبول کرنا ہوں گے۔
مقدمے کی سماعت کرنے والے جج اوگون کیوون نے کہا کہ اگر مسٹر کرادِچ نے کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھا توعدالت ان کی نمائندگی کرنے کے لیے ایک وکیل مقرر کرنے پر بھی غور کرے گی۔
پیر کی سماعت میں جج نے رادووان کرادچ سے کہا تھا کہ وہ منگل کے روز عدالت میں پیش ہوں تاکہ مقدمے کی سماعت میں مزید تاخیر نہ ہو۔
کرادچ کے خلاف مقدمے میں وکیل استغاثہ الین ٹیگر نے اپنے ابتدائی دلائل میں کہا ہے کہ مسٹر کرادِچ نے قوم پرستی، نفرت اور بربریت کی قوتوں کو ایک جگہ جمع کیا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کے بغیر ریاست کے اپنے خواب کو عملی جامہ پہنا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر کرادِچ ان سربوں کے ’غیر متنازع‘ لیڈر تھے جنہوں نے سن انیس سو بانوے سے پچانوے تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں ظلم و بربریت کا ارتکاب کیا تھا۔
’یہ مقدمہ اس سپریم رہنما کے بارے میں ہے، ایک ایسے آدمی کے بارے میں جنہوں نے قوم پرستی، نفرت اور بربریت کی تمام طاقتوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا تھا تاکہ وہ مسلمانوں کے بغیر بوسنیا کی ریاست کے اپنے خواب کو عملی جامہ پہنا سکیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران مسٹر کرادِچ نے بوسنیا اور ہرزگوینا کے وسیع علاقوں میں مسلمانوں کی نسل کشی کی۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کرادِچ ایک ایسے رہنماء تھے جن کا عملی طور پر نسل کشی میں حصہ لینے والے ہتھیار بندوں سے براہِ راست رابطہ تھا۔
’اس علاقے کو فتح کرنے کے دوران جو ان کے مطابق سربوں کی ملکیت ہے ان کی فوجوں نے ہزاروں مسلمانوں کو کروشیائی باشندوں کو قتل کیا، ہزاروں کو حراستی مراکز میں قید کیا اور لاکھوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا۔
وکیل استغاثہ نے کہا کہ گواہوں کے بیانات کے علاوہ مسٹر کرادِچ کے خلاف کچھ شہادتیں ان کی اپنی ٹیلی فون کالوں اور تقریروں سے بھی آئیں گی۔
رادووان کرادچ نے جمعرات کو خبردار کیا تھا کہ وہ پیر کے دن شروع ہونے والے اس مقدمے کی سماعت کا بائیکاٹ کریں گے کیونکہ ان کو اپنے دفاع تیار کرنے کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’جنگی جرائم کی ٹریبیونل کی تاریخ میں اتنا اہم ، پیچیدہ اور حساس مقدمہ مناسب تیاری کے بغیر شروع کیا جا رہا ہے۔‘
مسٹر کرادچ کو جنگی جرائم کے گیارہ الزامات کا سامنا ہے جن کا تعلق بوسنیائی جنگ سے ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔
کرادچ پر سرائیوو پر بمباری اور اقوام متحدہ کے امن قائم رکھنے والے دو سو چوراسی اہلکاروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا بھی الزام ہے۔
مسٹر کرادچ کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ججز چاہتے ہیں کہ مقدمے کی کارروائی سنہ دو ہزار بارہ تک مکمل ہوجائے کیونکہ اس سے قبل یوگوسلاویہ کے سابق صدر سلوبودان میلوسیوچ کے خلاف عالمی عدالت میں جنگی جرائم کا مقدمہ ان کی قید میں بیماری کے سبب موت کے باعث بناء کسی فیصلے کے ختم ہوگیا تھا۔
چونسٹھ سالہ کرادچ تیرہ سال تک مفرور رہے اور انہیں گزشتہ سال بلغراد سےگرفتار کرنے کے بعد ایک حکومتی فرمان کے تحت مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے دی ہیگ بھیج دیا گیا تھا۔
جنگی جرائم کے گیارہ الزامات کا سامنا کرنے والے کرادچ نے جولائی میں کہا تھا کہ ان کا امریکہ کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اور انہوں نے انیس سو چھیانوے میں ہونے والے معاہدے کی پاسداری کی جبکہ بوسنیا کی جنگ بندی کرانے والے سابق امریکی سفیر رچرڈ ہالبروک کا کہنا ہے ’کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔‘
رچرڈ ہالبروک نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ بالکل غلط اور مضحکہ خیز دعویٰ ہے اور کرادچ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انیس سو چھیانوے میں رچرڈ ہالبروک نے بلغراد میں اعلان کیا تھا کہ کرادچ کو حکومت چھوڑنے پر رضامند کرلیا گیا ہے ’وہ عوامی ریلی، ریڈیو، ٹی وی یا کسی اور میڈیا پر نہیں آئیں گے اور انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔‘
اس بیان کے کچھ عرصے بعد ہی کرادچ منظر عام سے غائب ہو گئے تھے۔






















