بلیئر کی امیدوں کو دھچکا

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو یورپی کونسل کی صدارت کے لیے یورپی رہنماؤں کی حمایت حاصل کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن کی خواہش تھی کہ بلیئر یورپی کونسل کے صدر بن جائیں اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس عہدے کے لیے ’زبردست امیدوار‘ ہیں۔ لیکن اب ان کی امیدیں کم ہو چکی ہیں۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانوی حکومت نے اب اشارہ دیا ہے کہ ٹونی بلیئر کی ناکامی ممکن ہے۔
دریں اثناء برسلز سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمہوریہ چیک کے صدر اور یورپی رہنماؤں میں اتفاق کے بعد لسبن معاہدے کی منظوری کے امکانات بڑھ چکے ہیں۔
یورپی کونسل کے موجودہ صدر سویڈن کے وزیر اعظم فریڈرک رائنفیلٹ نے کہا کہ معاہدے کی منظوری کا راستہ اب کھلا ہے۔
برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار جونی ڈائمنڈ کے مطابق ٹونی بلیئر کی یورپ کے سوشلسٹ رہنماؤں کی حمایت کے حصول میں ناکامی نے ان کے کونسل کے صدر بننے کی امکانات کو متاثر کر دیا ہے۔
گورڈن براؤن نے ٹونی بلیئر کی حمایت میں یورپی یونین کے رہنماؤں سے کہا تھا کہ انہیں ایک ’مضبوط اور ترقی پسند سیاستدان‘ کو صدر بنانے کا موقع نہیں ضائع کرنا چاہیے۔
یورپی یونین کے رہنماؤں نے کسی ایک ممکنہ امیدوار کی حمایت کی بجائے ایک سہ رکنی کمیٹی بنا دی ہے جو اس سلسلے میں رائے قائم کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















