یو این کی سکیورٹی بہتر کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے جنرل سیکریٹری بان کی مون کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے جس میں افغانستان میں موجود عالمی تنظیم کے اہلکاروں اور دفاتر کے لیے سکیورٹی انتظامات مزید بہتر کرنے کا کہا گیا ہے۔
یہ مطالبہ بدھ کے روز افعانستان کے دارالحکومت کابل میں اقوام متحدہ کے گیسٹ ہاؤس پر حملے کے بعد کیا گیا ہے۔ اس حملے میں اقوام متحدہ کے پانچ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
بان کی مون کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ افغانستان میں کام جاری رکھے گی لیکن افغانستان میں یو این کے اہلکاروں کو آسان ہدف سمجھا جاتا ہے۔
جنرل سیکریٹری کا کہنا ہے کہ وہ جمعہ کو جنرل اسمبلی سے سکیورٹی آفیسرز مہیا کرنے کی اپیل کریں گے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں یو این کے اہلکاروں کو خطرات کے پیش نظر سکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے۔ ’اقوام متحدہ کو حملوں کا نشانہ اس لیے بنایا جا رہا ہے کیونکہ ہم افغانستان میں انتخابات کے حق میں ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اور ہمسایہ ملک پاکستان دنیا میں یو این کے اہلکاروں کے لیے خطرناک ترین ممالک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قلیل مدتی اقدام میں افغانستان میں اہلکاروں کی سکیورٹی بہتر کی جائے گی اور خاص طور پر ان اہلکاروں کی جو کابل سے باہر کے شہروں میں ہیں۔
بان کی مون کا کہنا تھا کہ یو این کے اہلکاروں کی حفاظت کی ذمہ دار صرف اقوام متحدہ ہی نہیں ہے بلکہ افغان حکومت کی بھی ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے 6700 اہلکار کام کر رہے ہیں جن میں سے 1100 غیرملکی اہلکار ہیں جبکہ 5600 مقامی اہلکار ہیں۔
سکیورٹی کونسل نے متفقہ قرارداد میں بان کی مون کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے کہ افغانستان میں یو این کے عملے اور املاک کے لیے بہتر سکیورٹی مہیا کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















