امریکی فوج طالبان کو مال دے گی

فائل فوٹو، طالبان
،تصویر کا کیپشنحالیہ دنوں طالبان نےافغانستان میں اپنی پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے

افغانستان میں تعینات امریکی فوج کو اجازت دی جا رہی ہے کہ وہ ایسے طالبان کو پیسے ادا کر سکتے ہیں جو افغان حکومت کے خلاف پر تشدد کارروائیاں ختم کرنے کو تیار ہیں۔

یہ حکمت عملی اس دفاعی بجٹ میں بھی شامل ہے جس پر صدر براک اوباما دستخط کرنے والے ہیں۔ اس طرح کے معاوضے امریکی کمانڈر عراق میں جنگ کے دوران ادا کرتے رہے ہیں لیکن افغانستان میں یہ طریقہ پہلی بار باقاعدہ اپنایا جا رہا ہے۔

امریکی کمانڈروں کے لیے عراق اور افغانستان میں ایمرجنسی رسپانس پروگرام (سرپ) شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد سٹرکوں کو قابل استعمال بنانا، کنویں کھودنا اور دوسرے امدادی کاموں میں عراقی اور افغانی عوام کی مدد کرنا تھا۔ لیکن اس پروگرام کے تحت عراق میں شدت پسندوں کو نقد رقم بھی دی جاتی تھی تاکہ وہ اپنی ہمدردیاں تبدیل کر لیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ’سرپ‘ کی پشت پناہی کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ اس سکیم کے تحت عراق میں پر تشدد رویے کے حامی نوے ہزار عراقیوں کی مقامی ملیشیا بنائی گئی جو بعد میں اپنے دیہاتوں کی شدت پسندوں سے حفاظت کیا کرتے تھے۔

اب حکام کا کہنا ہے کہ امریکی کمانڈروں کو ایسے ہی اجازت افغانستان میں دی جا رہی ہیں۔ امریکہ کے سالانہ دفاعی بجٹ میں شامل ایک شق کے مطابق ایسے طالبان کو افغان معاشرے کا حصہ بنانے کے لیے ان فنڈز کا استعمال کیا جائے گا جو افغان حکومت کے خلاف پرتشدد کارروائیاں ترک کرنے کو تیار ہیں۔

اس مقصد کے لیے ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے لیکن اس میں واضح نہیں ہے کہ افغان معاشرے کی بہتری کے لیے کتنے پیسے مختص کیے گئے ہیں۔

امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروس کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ فنڈز سے سابق افغان کمانڈروں کو پیسے دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے لوگوں کی حفاظت کر سکیں۔

فائل فوٹو، امریکی فوجی
،تصویر کا کیپشنآٹھ سالوں میں افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوج کو سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے

خیال رہے کہ یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں تیار کیا گیا ہے جب بدھ کی صبح کابل میں مسلح افراد نے اقوام متحدہ کے زیر استعمال گیسٹ ہاؤس پر حملہ کر کے عملے کے چھ غیر ملکی ارکان کو ہلاک اور نو کو زخمی کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ منگل کے روز جنوبی افغانستان میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں آٹھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

آٹھ سالوں میں امریکی فوج کا رواں ماہ اکتوبر میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے ابھی تک یہ طے نہیں کیا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوج میں اضافہ کیا جائے۔ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی جانوں کو اس وقت تک خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا ہے جب تک ان کی وہاں اشد ضرورت نہ ہو۔

حالیہ دنوں افغانستان میں پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا ہے جب وہاں صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد ہونے جا رہا ہے۔