الیکشن کمشنرہٹانےکا مطالبہ مسترد

افغان صدر حامد کرزئی نے مخالف صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کے الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے مطالبہ کیا تھا کہ اگلے ماہ ہونے والے انتخابات کے دوسرے مرحلے سے پہلے ملک کے الیکشن کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔
مسٹر عبداللہ نے یہ مطالبہ ایک پریس کانفرنس کے دوران دوسرے مرحلے میں شفاف ووٹنگ کروانے کے لیے اپنی شرائط پیش کرتے ہوئے کیا۔ مسٹر عبداللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن (آئی ای سی) کے سربراہ عزیزاللہ لودین کی اب کوئی ساکھ نہیں رہی۔
خبر رسان ادارے اے ایف پی کے مطابق مسٹر عبداللہ نے کہا کہ ’اب وہ اس ادارے (آئی ای سی) میں کام کرنے کے لائق نہیں رہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ اسی ادارے کے دوسرے کمیشنر ان کی جگہ لے لیں۔
افغان صدر حامد کرزئی نے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا مطالبہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ اس نوعیت کی اچانک تبدیلی سے ووٹنگ کا عمل متاثر ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں انتخابات اور ملک کے لیے سودمند نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن نے اپنے آئینی فرائض انجام دیئے ہیں۔
افغانستان میں سات نومبر کو صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کے ایک پینل نے دھاندلی کے الزامات کے بعد کئی نتائج کو مسترد کر دیا تھا۔
الیکشن کمیشن کے افسران کو موجودہ صدر حامد کرزئی نے نامزد کیا تھا۔ اب تک آئی ای سی یا مسٹر لودین کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مسٹر عبداللہ اور حامد کرزئی پہلے ہی کسی بھی قسم کے اتحاد کے امکان کو رد کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں امیدواروں نے امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں کہا ہے کہ وہ دوسرے دور کے اتنخابات چاہتے ہیں۔ سی این این سے بات کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ کسی بھی قسم کی ڈیل ’جمہوریت کی بےعزتی‘ کے برابر ہوگی۔ حامد کرزئی نے بین الاقوامی دباؤ کے بعد دوسرے مرحلے کے انتخابات کروانے پر اتفاق کیا تھا۔
بیس اگست کو ہونے والے انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق حامد کرزئی کو پچپن جبکہ سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ کو اٹھائیس فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔
تاہم الیکٹورل کمپلینٹس کمیشن (ای سی سی) نے، جسے اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے، مرکزی امیدواروں کے لاکھوں ووٹ رد کر دیے۔ تفتیش کے دوران چھ سو نہایت سنگین الزامات پر غور کیا گیا اور دو سو دس پولنگ سٹیشنوں پر ڈالے گئے تمام ووٹ مسترد کر دیے گئے۔ اس کے نتیجہ میں حامد کرزئی کو ملنے والے ووٹ پچاس فیصد سے کم ہو گئے، جس کے بعد انتخابات دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئے۔





















