’فورٹ ہوڈ: بدترین فطرت بہترین امریکہ‘

امریکی صدر براک اوبام نے فورٹ ہوڈ کے فوجی اڈے میں فائرنگ کے بارے میں کہا ہے کہ یہ واقعہ بدترین انسانی فطرت اور بہترین امریکہ کا عکاس ہے۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے فورٹ ہوڈ کے فوجی اڈے میں گزشتہ روز فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز ہو گیا ہے جس میں امریکی فوج کے ایک افسر نے اپنے ہی ساتھیوں پر گولی چلا دی تھی۔
اس واقعے میں امریکی فوج کے افسر میجر نڈال ملک حسن نے جو فوج کے نفسیات کے شعبے سے وابستہ تھے،اپنے ساتھیوں پر فائرنگ کر دی تھی جس سے ایک سویلین اور بارہ فوجی ہلاک اور بہت سے زخمی ہوگئے تھے۔اسی دوران پولیس کی ایک خاتون افسر نے نڈال ملک پر گولی چلائی جس سے وہ زخمی ہوگئے۔
جمعہ کی رات سینکڑوں افراد فورٹ ہوڈ کے سٹیڈیم میں جمعہ ہوئے اور ہلاک ہونے والوں کی یاد میں موم بتیاں روشن کیں۔
<link type="page"><caption> فورٹ ہوڈ میں فائرنگ: تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/11/091105_fort_hood_shooting_pix.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’اس حملے کو مذہب سے نہیں جوڑنا چاہیے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/11/091105_fort_hood_muslims.shtml" platform="highweb"/></link>
واشنگٹن میں ہمارے نامہ نگار جاوید سومرو کے مطابق فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ میجر نڈال اور دیگر زخمی افراد ہپستال میں ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ترجمان نے تصدیق کی کہ میجر حسن کی تعیناتی افغانستان میں ہونے والی تھی۔
انتالیس سالہ میجر نڈال ملک حسن نے جن کی پیدائش امریکہ میں ہوئی، فورٹ ہوڈ میں اپنے ساتھیوں پر گولی چلا دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میجر حسن کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے (افغانستان میں) اپنی ہونے والی تعیناتی کی بھر پور مخالفت کی تھی اور فوج چھوڑنا چاہتے تھے۔
صدر اوباما نے اس واقعے پر فوجیوں اور شہریوں کے رد عمل کو قابل تحسین قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی اڈے پر ہونے والا اب تک کا یہ تباہ کن ترین واقعہ ہے۔
اوباما نے کہا ’ہم یہ پورے طور پر تو نہیں جان سکتے کہ کیا محرکات ایک انسان کو ایسا کرنے پر مجبور کرتے ہیں تاہم ہمارے احساسات اس واقعے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔
امریکی اہلکاروں کے مطابق گزشتہ رات سے اس بات کی تفتیش جاری ہے کہ آخر کس وجہ سے میجر حسن نے اپنے ساتھیوں پر گولی چلائی۔
اس واقعے کے اٹھائیس زخمی افراد ابھی تک ہسپتال میں ہیں جن میں سے چودہ کا آپریشن ہوا ہے لیکن بتایا گیا ہے کہ تمام کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
فورٹ ہوڈ اڈے کے نائب کرنل جون روسی کا کہنا تھا کہ ’اس بات پر کوئی قیاس آرائی نہیں کی جائے گی کہ آخر اس شوٹنگ کے محرکات کیا تھے۔ ہم چاہیں گے کہ تفتیش کار اس بارے میں خود کسی نتیجے پر پہنچیں۔‘
میجر حسن کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ ان پر چار گولیاں چلائی گئیں اور اس وقت وہ زخمی حالت میں گارڈز کی حفاظت میں ہیں۔

فوجی حکام کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب امریکی فوج کے ایک افسر نے افسران کی رہائش گاہوں کے قریب طبی چیک اپ کی پوسٹ پر دو بندوقوں سے فائرنگ کی جس سے متعدد فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔
امریکی صدر براک اوباما نے اس واقعہ پر شدید رنج کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک بڑا سانحہ قرار دیا ہے۔
یہ پوسٹ بیرون ملک تعیناتی کے لیے جانے والے فوجیوں کا طبی معائنہ کرتی ہے اور جب حملہ ہوا اس وقت وہاں متعدد فوجی موجود تھے۔ فورٹ ہوڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل باب کون کے مطابق فوج اور پولیس نے بہت جلد موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پانے کی کوشش کی اور فائرنگ کرنے والے میجر ندال ملک حسن کے علاوہ دو اور فوجیوں کو بھی شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا اسے دہشتگردی کا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے جنرل کون نے کہا کہ ’اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا لیکن میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ فی الحال شواہد اس جانب اشارہ نہیں کر رہے ہیں‘۔
فوجی حکام کے مطابق انتالیس سالہ میجر ندال ملک حسن ایک ماہر نفسیات ہیں جن کی حال میں ہی واشنگٹن سے فورٹ ہوڈ تعیناتی کی گئی تھی اور ذرائع کے مطابق ان کو بہت جلد عراق یا افغانستان میں تعینات کیا جانا تھا۔ میجر ندال کے ایک رشتہ دار کے مطابق وہ اس تعیناتی پر خوش نہیں تھے۔
میجر ندال فلسطینی نژاد امریکی ہیں۔ وہ جنگ زدہ علاقوں سے واپس لوٹنے والے فوجیوں کے علاج سے منسلک رہے۔ کہا جاتا ہے کہ ندال مذہبی رجحان رکھتے تھے۔
نادر حسن نے امریکی نیوز چینل فوکس نیوز کو بتایا ہے کہ ’انہوں نے ایک فوجی وکیل کی خدمات بھی حاصل کی تھیں تاکہ اس معاملے سے نمٹا جا سکے۔ وہ فوج چھوڑنا چاہتے تھے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نسلی طور پر مشرقِ وسطٰی سے تعلق کی وجہ سے میجر حسن کو نسلی تعصب کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔
خیال رہے کہ سنہ 1942 میں بنایا جانے والا فورٹ ہوڈ دنیا میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ ہے اور یہاں چالیس ہزار کے قریب اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔ اس فوجی اڈے پر ماضی میں بھی فائرنگ اور ہلاکتوں کے واقعات ہوچکے ہیں لیکن جمعرات کا واقعہ سب سے سنگین ہے۔





















