افغانستان: بدعنوانی کی تحقیقات کا اعلان

بدعنوانی کے الزامات میں بڑی اور چھوٹی رشوت لینا دونوں شامل ہیں: چیف پراسیکیوٹر
،تصویر کا کیپشنبدعنوانی کے الزامات میں بڑی اور چھوٹی رشوت لینا دونوں شامل ہیں: چیف پراسیکیوٹر

افغانستان کے چیف پراسیکیوٹر اسحاق الوکو کا کہنا ہے کہ ان کے پاس افغان حکومت کے سینیئر حکام اور وزراء کی فہرست ہے جن پر رشوت لینے کا الزام ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسحاق الوکو نے کہا کہ انہوں نے صدر اور سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اس معاملے کے لیے ایک سپیشل عدالت تشکیل دیں۔ انہوں نے ان افراد کے نام منظر عام پر لانے سے انکار کیا جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں۔

واضح رہے کہ صدر کرزئی پر ان کی حکومت میں بدعنوانی کے حوالے سے شدید دباؤ ہے۔

اسحاق الوکو نے کہا کہ بدعنوانی کے الزامات مختلف نوعیت کے ہیں۔ ’ان الزامات میں گاڑیوں کی خریداری، کمپیوٹر اور فرنیچر کی خریداری شامل ہیں یعنی یہ کہ بدعنوانی کے الزامات میں بڑی اور چھوٹی رشوت لینا دونوں شامل ہیں۔ اور یہی حال تعمیراتی اور سڑک کے ٹھیکے دینے میں ہے۔‘

.اسحاق الوکو کا کہنا ہے کہ ان کا محکمہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ ’اسی ہفتے میرے محکمے نے بدعنوانی کے چند بڑے کیسوں کی تحقیقات کی ہیں جن میں سے ایک میں گورنر اور دوسرے کیس میں وزراء کی سطح کے لوگ شامل ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو اس وقت سولہ ہزار قیدی ہیں جن کو بدعنوانی کے الزام میں سزا ملی اور ان قیدیوں میں نائب وزیر، کمپنی کے ڈائریکٹر اور لوکل کونسل کے افراد شامل ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدعنوانی میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس سے یہ بات ضرور ظاہر ہوتی ہے کہ ’ہمارے محکمہ بدعنوانی کو ختم کرنے میں سنجیدہ ہے۔‘