بدعنوانی سے پاک کروں گا: کرزئی

حامد کرزئی
،تصویر کا کیپشنحامد کرزئی کی کامیابی کا اعلان کابل میں الیکشن حکام نے کیا

حامد کرزئی نے افغانستان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کا ملک اور حکومت بدعنوانی کی وجہ سے بہت بدنام ہو گئے ہیں اور وہ اس بدعنوانی کو ختم کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

حامد کرزئی نے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں طالبان کو بھائی کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ وہ ملک میں امن کے قیام کے لیے بات چیت کے لیے تیار ہو جائیں۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی طرف سے انتخابات سے دستبردار ہونے پر انہوں نے کہا کہ اچھا ہوتا اگر وہ دوسرے مرحلے کے انتخاب میں ان کا مقابلہ کرتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایسی حکومت تشکیل دیں گے جس میں ہر اس شخص کو شامل کرنے کے لیے تیار ہیں جو ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہو۔

مغربی ممالک صدر حامد کرزئی کی حکومت پر وسیع پیمانے میں بدعنوانی اور کرپشن میں ملوث ہونے کےالزامات لگاتے رہے ہیں۔

حامد کرزئی کے بھائی پر منشیات کی اسمگلنگ اور امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے کام کرنے کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے بھی صدر حامد کرزئی کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک سے بدعنوانی ختم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کر دیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے افغان الیکشن کمیشن کی طرف سے صدر حامد کرزئی کودوبارہ منتخب قرار دیئے جانے کے بعد ٹیلیفون پر افغان صدر کو مبارک باد پیش کی اور ان پر زور دیا کہ وہ افغان تاریخ کا ایک اہم باب رقم کریں۔

امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان کے انتخاب زیادہ عمدہ نہیں تھے لیکن ان کا نتیجہ افغان قوانین کے عین مطابق ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے افغان صدر کو بتایا ہے کہ اپنے ارادوں کو الفاظ سے آگے بڑھا کر عملی جامہ پہنائیں۔

برطانوی وزیر اعظم گارڈن براؤن نے بھی افغان صدر کو مبارک باد دی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم نے افغان رہنما کو مشورہ دیا کہ وہ قومی یکجہتی کی حکومت قائم کرنے میں جلدی کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ا فغان صدر کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔

اس سے پہلے افغانستان کے انتخابی کمیشن نے آئندہ ہفتے ہونے والا صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ منسوخ کرتے ہوئے حامد کرزئی کے بطور صدر انتخاب کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ افغان صدر حامد کرزئی کے مخالف امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم حامد کرزئی کو جنہوں نے پہلے مرحلے میں اکثریتی ووٹ حاصل کیے تھے، افغانستان کا منتخب صدر قرار دیتے ہیں‘۔ترجمان کا.کہنا تھا کہ دوسرا مرحلہ منسوخ کرنے کا فیصلہ رقم بچانے اور ایسے دیگر نقصانات سے بچنے کے لیے کیا گیا جس کا سامنا افغانستان کو سیاسی اور معاشی طور پر ہو سکتا تھا۔

خیال رہے کہ حامد کرزئی صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں واحد امیدوار تھے کیونکہ ان کے حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابی دھاندلی کو روکنے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیاگیا اور موجودہ الیکشن کمشنر کی موجودگی میں انتخاب میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ان کے مطالبات نہیں مانے گئے۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے صدر حامد کرزئی کے لیے انتخابی دھاندلی کی وہ اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ان کا مطالبہ تھا کہ انتخابی کمیشن کے سربراہ کو برطرف کیا جائے۔ حامد کرزئی نے الیکشن کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

انتخاب کی منسوخی کا فیصلہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کو مون افغانستان کے دورے پر کابل پہنچے ہیں۔ صدارتی انتخابات پر تنازعے کے بعد اکتوبر میں جب دوسرے مرحلے کے انتخابات کا اعلان ہوا تھا تو بان کی مون نے اس فیصلے کی حمایت کی تھی اور بان کی مون نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ افغانستان میں آزاد اور شفاف انتخابات کرانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

خیال رہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخاب کا پہلا مرحلہ اگست میں منعقد ہوا تھا تاہم اس الیکشن کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلی کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ انتخاب کے پہلے مرحلے میں ووٹوں کی ایک بڑی تعداد کی دوبارہ گنتی بھی کروائی گئی اور انتخابی شکایات کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں صدارتی انتخاب کا دوسرا راؤنڈ کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔