9/11: نیویارک میں مقدمہ پر تنازعہ

امریکہ میں ریپبلیکن پارٹی کے سینیئر اراکین نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ اور چار دیگر افراد کا مقدمہ نیو یارک میں چلانے کے اوباما انتظامیہ کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔
سینٹ میں ریپلیکنز کے رہنما مچ مککونل نے کہا ہے کہ ملزمان کو گوانتانامو سے امریکہ لانے سے ’امریکیوں کو غیر ضروری طور پر خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔‘
ان پانچوں پر گراؤنڈ زیرو کے قریب ایک سول عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ استغاثہ نے کہا ہے کہ وہ ان ملزمان کے لیے عدالت سے سزائے موت طلب کرے گی۔
ڈیموکریٹس نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ گیارہ ستمبر کے حملوں کا شکار بننے والوں کے خاندانوں کی رائے اس مسئلے پر بٹی ہوئی ہے۔
اوباما انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو کیوبا سے نیویارک منتقل کیا جائے گا تاکہ ان پر سول عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکے۔
یہ فیصلہ صدر براک اوباما کی گوانتانامو کے حراستی مرکز میں مزید مشتبہ دہشت گرد نہ رکھنے کی کوششوں کی ایک کڑی ہے۔
امریکہ کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ محکمۂ انصاف گیارہ ستمبر کے ملزمان کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے رجوع کرے گا۔
’مجھے استغاثہ سے پوری امید کرتا ہوں کہ وہ گیارہ ستمبر کی منصوبہ بندی کرنے والے مشتبہ افراد کے لیے موت کی سزا طلب کرے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ریپبلیکن رہنماؤں نے فوراً اس فیصلے پر تنقید شروع کر دی ہے۔
مچ میککونل نے اس عمل کو ملک کی سکیورٹی کے حوالے سے پیچھے کی طرف ایک قدم کہا ہے۔
سابق صدر جارج بش کے دور کے اٹارنی جنرل مائیکل موکاسے نے کہا ہے کہ وفاقی عدالتوں کے پاس اس طرح کے مقدمے سننے کا تجربہ نہیں۔
سنہ 2008 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلیکنز پارٹی کے امیدوار سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ مشتبہ دہشت گردوں کے لیے فوجی ٹرائبیونل ہی بہتر جگہ ہے۔
جن پانچ ملزمان کو کیوبا سے منتقل کیا جائے گا ان پر کیوبا میں فوجی ٹریبونل میں مقدمے کی سماعت کی جا رہی ہے۔
نیو یارک شہر کے میئر مائیکل بلومبرگ جو کہ آزاد امیدوار کے طور پر میئر منتخب ہوئے تھے، نیو یارک میں مشتبہ افراد پر مقدمہ چلانے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’یہ بالکل مناسب ہے کہ 9/11 کے ملزمان کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے قریب ہی انصاف کا سامنا کرنا پڑے جہاں نیو یارک کے بہت زیادہ شہریوں کو قتل کیا گیا تھا۔
دو یمنی، ایک سعودی اور ایک پاکستان میں پیدا ہونے والے کویتی شہری خالد شیخ محمد کے ساتھ مقدمات کا سامنا کریں۔ امریکی فوج کے مطابق خالد شیخ محمد نائن الیون حملوں کا منصوبہ بنانے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
اب تک مقدمے کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی لیکن امریکی میڈیا کے مطابق زیرِ حراست مشتبہ افراد کو امریکہ منتقل کرنے کے لیے کانگریس کو کم از کم پینتالیس دن کا نوٹس دینا پڑتا ہے۔






















