موسمی تبدیلیوں کا ذمہ دار کون؟

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشن کوپن ہیگن میں منعقد ہونے اجلاس میں موسمی تبدیلیوں پر غور کیا جائے گا

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں منعقد ہونے اجلاس میں موسمی تبدیلیوں پر غور کیا جائے گا۔

اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ ایسے کون سے ممالک ہیں جو انسانوں کو موسمی تبدیلیوں کی جانب راغب کرنے کے ذمہ دار ہیں؟ اور ان کی حکومتوں نے عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے کس طرح کے اقدامات کیے ہیں۔

موسمی ماہرین نےصنعتوں سے خارج ہونے والی گیس کا حساب لگا کر اس بات کو جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس کا آئندہ عالمی درجہ حرارت پر کیا اثر پڑے گا۔ اگرچہ ان کا اندازہ بلکل درست نہیں کیونکہ ان کے حساب میں بہت سی دوسری باتوں کے علاوہ مختلف گیسوں کے اخراج کی سطح اور درجہ حرارت کا عمل دخل بھی شامل ہے۔

چین اور بھارت جیسے ترقی پذیرگنجان آباد ممالک میں گیس کا اخراج دیگر ترقی یافتہ ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔ برطانیہ، امریکہ اور جرمنی نے صنعتی میدان میں نمایاں ترقی کی لیکن ان ممالک میں ہونے والے گیس کے اخراج نے ماحول پر برے اثرات مرتب نہیں کیے۔

دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک نے گیس کے اخراج کو کم کرنے کے لیے حدف مقرر کیے ہیں۔ مثال کے طور پر یورپی یونین سنہ انیس سو ننانوے کے مقابلے میں گیس کے اخراج کو مزید تیس فیصد کم کرے گا۔

چند ترقی پذیر ممالک نے بھی اپنی صنعتوں سے پیدا ہونے والی زہریلی گیس کے اخراج کو کم کرنے کا عہد کیا ہے۔ اور اگر اس وعدے پر عمل کیا گیا تو اس سے عالمی حدت بندی کو جی ایٹ ممالک اور یورپی یونین کی جانب سے قائم کیے گیے ٹارگٹ یعنی درجہ حرارت کو دو درجہ سینٹی گریڈ تک رکھنے میں مدد ملے گی۔