نیٹو حملہ: جرمن جنرل نے استعفیٰ دے دیا

جنرل وولف گینگ شنائیڈرہان
،تصویر کا کیپشنجرمن جنرل نے ہائی جیک کیے جانے والے تیل کے ٹینکروں پر حملے کی اجازت دی تھی

جرمنی کے اعلیٰ فوجی کمانڈر نے ان الزامات کے بعد کہ انہوں نے ستمبر میں ہونے والے نیٹو حملے کی تفصیلات چھپانے کی کوشش کی تھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

جرمنی کے وزیرِ دفاع کے مطابق جنرل وولف گینگ شنائیڈرہان نے چار ستمبر کے نیٹو حملے کے متعلق معلومات روکنے کی کوشش کی تھی۔ اس حملے میں درجنوں عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب طالبان نے نیٹو کو تیل سپلائی کرنے والے دو ٹینکر ہائی جیک کر لیے تھے۔ ہائی جیک کیے جانے والے ٹینکرز پر حملے کی اجازت جرمن کمانڈر نے دی تھی۔

یہ حملہ افغانستان کے شمالی صوبے کندوز میں کیا گیا تھا۔

وزیرِ دفاع کارل تھیوڈور زو گوٹنبرگ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ جنرل وولف گینگ اس واقعہ کے متعلق اہم معلومات نہیں دے سکے اور انہوں نے خود درخواست کی کہ انہیں ان کے عہدے سے برخاست کر دیا جائے۔

وزارتِ دفاع کے ایک اور سینیئر اہلکار پیٹر وچرٹ نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب جرمنی کی پارلیمان اس بات پر بحث کر رہی ہے کہ آیا افغانستان میں فوجی مشن کو توسیع دی جائے یا نہیں۔ جرمنی میں روز بروز افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی فوج کی شمولیت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

یہ تیل کے ٹینکر طالبان نے اس وقت ہائی جیک کیے تھے جب یہ تاجکستان سے نیٹو افواج کے لیے تیل لے کر کابل آ رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق جب میزائل کا حملہ ہوا اس وقت گاؤں والے ان سے تیل نکال رہے تھے۔

ابھی تک یہ حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ اس میں کتنے افغان ہلاک ہوئے تھے لیکن آزاد ذرائع نے اس وقت کہا تھا کہ ستر کے قریب افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بعد میں افغان حکومت نے کہا تھا کہ کم از کم سو افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں سے تیس عام شہری تھے۔