قندھار بس دھماکہ، 30 ہلاک

افغان دھماکا
،تصویر کا کیپشنقندھار حکومت کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی ہے

افغانستان کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جنوبی افغانستان میں بس سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہو گئے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ بس ہرات سے قندھار جاتے ہوئے سڑک پر نصب بم سے ٹکرا گئی۔ اس دھماکے کے نتیجے میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دس بچے اور سات خواتین شامل ہیں۔

وزارت داخلہ نے مزید کہا ہے کہ شدید زخمی ہونے والے افراد کو فوری علاج کے لیے قریبی نیٹو فوجی اڈے منتقل کیا گیا ہے۔

قندھار حکومت کے ترجمان زلمے ایوبی نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور عورتیں شامل ہیں۔ انہوں نے اس حملے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی۔

یہ دھماکہ اس وقت ہوا ہے جب افغانستان میں نیٹو افواج کے نئے سربراہ مسٹر ریس میوسن نے کمانڈ سنبھالی ہے۔

نیٹو کے نئے سربراہ مسٹر ریس میوسن نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ نیٹو ممالک کی افغانستان میں ذمہ داریوں کے بارے شکوک کرنا چھوڑ دے اور افغانستان میں کامیابی کے لیے نیٹو اور امریکہ کا اتحاد قائم رہنا بہت ضروری ہے۔

نیٹو کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ کچھ حلقے یہ کہتے ہیں کہ کینیڈا اور یورپی ممالک افغانستان میں کامیابی کےلیے قربانیاں دینے سے کترا رہے ہیں۔ ’میں آپکو کو بتانا چاہتا ہوں کہ صورتحال ایسی نہیں ہیں۔ نیٹو کے بیس ممالک کے فوجی افغانستان میں برسرپیکار ہیں اور وہاں جانی نقصان اٹھا رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ افعانستان میں کامیابی کےلیے امریکہ اور نیٹو ممالک کا اتحاد قائم رہنا بہت ضروری ہے۔

نیٹو کےنئے سربراہ نےامریکہ کے پہلے دورے کے دوران ایک تحقیقاتی ادارے ایٹلانٹک کونسل میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی جنگ ایک ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں موجود بین الاقوامی اور افغان فوج کو نشانہ بنانے کے لیے سڑک پر بم نصب کیے جاتے ہیں لیکن ان میں زیادہ تر ہلاکتیں عام شہریوں کی ہوتی ہے۔