پانچ برطانوی ایران کی حراست میں

برطانیہ کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران نے اس کی سمندری حدود میں داخل ہونے والے پانچ برطانوی شہریوں کو ایک کشتی سمیت حراست میں لے لیا ہے۔
برطانوی وزراتِ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ برطانوی شہری بحرین سے ایک کشتی میں سوار دبئی میں منعقد ہونے والی ایک ریس میں حصہ لینے کے لیے جا رہے تھےجب ان کی کشتی غلطی سے ایران کی سمندری حدود میں چلی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران بحریہ نے اس کشتی کو روک کر پانچوں شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ تاہم یہ پانچوں خیریت سے ہیں۔
بیان کے مطابق یہ واقعہ پچیس نومبر کو پیش آیا لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایرانی حکام نے اس واقعے کو کیوں پوشیدہ رکھا۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی صدر کے ترجمان ابراہیم رحیم کا کہنا ہے ’ان پانچ افراد کے بارے میں عدلیہ فیصلہ سنائے گی ۔۔۔ یقیناً ان کو سخت سزا دی جائے گی اگر یہ ثابت ہو گیا کہ ایرانی سمندری حدود میں ان کا داخلہ غلطی نہیں تھی۔‘
تہران میں برطانوی سفارت خانے ان پانچوں سیاحوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ جبکہ لندن میں بھی برطانوی وزارتِ خارجہ ایران کے سفارت خانے سے رابطے میں ہے۔ لیکن ابھی تک کشتی کے عملے سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کے مطابق وہ پر امید ہیں کہ یہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ایران میں عید کی چھٹیوں کی وجہ سے برطانوی شہریوں کی رہائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران ان پانچ برطانوی شہریوں کے حوالے سے آج (منگل) کو بیان جاری کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا اور اس سلسلے میں کوئی تنازعہ نہیں ہے۔
’یہ پانچوں افراد عام شہری ہیں اور ان کی کشتی غلطی سے ایرانی سمندری حدود میں داخل ہو گئی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ ایران اس معاملے پر جلد اور واضح موقف اختیار کرے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق برطانوی شہریوں کی گرفتاری ایک ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب برطانیہ نے ایران کی جانب سے جوہری پروگرام میں توسیع کے مذمت کی ہے۔





















