افغانستان کے لیے مزید فوجی، انخلاء دو ہزار گیارہ سے

براک اوباما
،تصویر کا کیپشنصدر کے اس فیصلے پر ایک بڑی امریکی آبادی ناخوش ہوگی کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگ اس جنگ کے خلاف ہیں
    • مصنف, جاوید سومرو
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

امریکی صدر براک اوبامانے توقع کے عین مطابق تیس ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاہم ان کے مطابق القاعدہ اور طالبان کے خلاف مربوط کارروائی اور ملک میں استحکام پیدا کرنے کے بعد، جولائی دوہزار گیارہ سے امریکی افواج کا انخلاء شروع کردیا جائے گا۔

نیویارک میں ویسٹ پوائنٹ فوجی اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے نام لیے بغیر سابق صدر بش کے دور میں شروع ہونے والی عراق جنگ پر تنقید کی اور کہا کہ افغانستان میں جتنے وسائل کی ضرورت تھی اتنے پہنچائے نہیں گئے۔

صدر اوباما نے پاکستان کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ اس ملک کے عوام کو کراچی سے اسلام آباد تک شدت پسندوں سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو سب سے زیادہ امداد فراہم کرتا ہے اور شدت پسندی کے خلاف پاکستان کی لڑائی میں امریکہ اس کی سیاسی، معاشی اور سلامتی کے معاملات میں مدد کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے طالبان کے خلاف اپنی حالیہ برسوں کی سب سے بڑی کارروائی کی ہے جبکہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے حکومت کا خاتمہ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔

تاہم صدر اوباما نے کہا کہ القاعدہ کی قیادت افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہے اور امریکہ ان کے خلاف کارروائی سے دریغ نہیں کرے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ القاعدہ کی قیادت افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہے اور امریکہ ان افراد کے خلاف کارروائی سے دریغ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا ’ہم یہ سوچ کر آگے بڑھیں گے کہ افغانستان کا مسئلہ پاکستان کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ ہم افغانستان گئے تھے اس سرطان کو روکنے لیکن یہ سرطان پہلے ہی پاکستان کے بعض سرحدی علاقوں میں جڑ پکڑ چکا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان میں لوگ شدت پسندوں کے خلاف لڑائی کو اپنی لڑائی نہیں سمجھتے تھے لیکن معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کے بعد پاکستانی عوام پر واضع ہے کہ یہ شدت پسند ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور رائے عامہ میں تبدیلی آئی ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ اس پر کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ امریکہ اور پاکستان کا دشمن ایک ہی ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ اب ماضی کی طرح نہیں ہوگا بلکہ اب امریکہ پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی طویل مدت تک مدد کرتا رہے گا۔

صدر اوباما نے کہا کہ القاعدہ اور شدت پسندی کے خلاف جنگ صرف امریکہ کی جنگ نہیں اور شدت پسند لندن، امان اور بالی کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں اور پاکستان میں تو یہ خطرہ اور بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ ایک نیوکلیئر ملک ہے اور شدت پسندجوہری ہتھیار چاہتے۔

صدر اوباما نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد یہ رہے گا کہ القاعدہ کو افغانستان اور پاکستان میں منظم ہونے اور کارروائی کرنے کے قابل ہونے سے روکا جائے اور اسے شکست دی جائے تاکہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملے نہ کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے امریکی حکمت عملی یہ ہوگی کہ القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہیں تباہ کی جائیں، طالبان کی کارروائیوں کو روکا جائے اور افغان قومی فورس کو تربیت دی جائے کہ وہ ملک کی حفاظت خود کرسکے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ افغان حکومت کی جانب سے ایسے طالبان سے بات چیت کی حمایت کرے گا جو جنگ بند کرنا چاہتے ہوں

صدر اوباما نے اپنی نئی افغان پاکستان پالیسی کے بارے میں احکامات پیر کی رات ہی جاری کردیے تھے اور اس سے افغانستان اور امریکہ میں موجود افواج کے سربراہوں کو آگاہ کر دیا گیا تھا۔

براک اوباما نے اس بارے میں پاکستان کے صدر آصف زرداری سمیت اپنے اتحادی ممالک کے رہنماؤں کو فون کر کے آگاہ کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سٹینلی مک کرسٹل نے تقریباً دو ماہ قبل افغانستان کی صورتحال کے جائزے کے بعد اپنی رپورٹ میں صدر اوباما سے چالیس ہزار مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کی تھی۔

امریکی صدر نے اس اعلان کے ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ اپنے نیٹو کے اتحادیوں کو مزید فوج افغانستان بھیجنے کی درخواست کریں گے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن پہلے ہی پانچ سو مزید فوجی بھیجنے کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ فرانس کے صدر سارکوزی نے مزید فوجی نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کے اس وقت ساٹھ ہزار سے زائد فوجی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ تیس ہزار کی اضافی کمک سے امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہوجائے گی۔ برطانیہ کے نو ہزار فوجی افغانستان میں تعینات ہیں جبکہ باقی اتحادیوں کے فوجیوں کی تعداد کے ساتھ افغانستان میں کل تقریباً ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی فوجی ہوجائیں گے۔

مزید فوج بھیجنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے صدر براک اوباما نے افغانستان میں درپیش چیلنجوں کا ذکر کیا اور کہا کہ طالبان اور القاعدہ کی صورتحال ایسی تو نہیں جیسی گیارہ ستمبر کے حملوں سے پہلے تھی تاہم انہوں نے پاک افغان سرحد کے آرپار محفوظ پناہ گاہیں قائم کرلی ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی اور اتحادی ممالک کے فوجیوں کی مناسب تعداد موجود نہیں۔

صدر اوباما کے اس فیصلے پر امریکہ کی ایک بڑی آبادی ناخوش ہوگی کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگ اس جنگ کے خلاف ہیں اور امریکیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔ صدر اوباما کو بعض اپنے قریبی ساتھیوں سے بھی اس فیصلے میں مخالفت کا سامنا رہا ہے۔

ریپبلکن پارٹی نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے تاہم جنرل مک کرسٹل کی درخواست سے دس ہزار کم فوجی بھیجنے اور فیصلے میں اتنی تاخیر پر صدر اوباما پر تنقید کی ہے۔

امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کہ نئے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کی سرحد کے ساتھ ہیلمند اور قندھار صوبوں میں تعینات کی جائے گی۔

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے افعانستان میں بہت زیادہ فوجوں کی تعیناتی پر تشویش ظاہر کی ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ افغانستان سے شدت پسند پاکستان میں داخل ہوجائیں گے۔