فوجی کمک پر افغانوں کے خدشات

امریکہ افغانستان میں بدامنی پر قابو پانے کے لیے وہاں مزید فوجی بھیجنے کا اعلان کرنے والا ہے۔ کابل میں بی بی سی کے نمائندے نے افغان لوگوں سے جانے کی کوشش کی ہے کہ وہ مزید غیر ملکی فوجیوں کی افغانستان آمد کو کیسے دیکھتے ہیں
افغانستان میں مقیم ایک غیر ملکی کو مصیبت میں مبتلا ہونے کے لیے کابل سے بہت زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چار سال قبل افغان اور غیر ملکی باشندے باآسانی کابل سے تین سو میل دور تک جا سکتے تھے لیکن اب صورتحال بالکل مختلف ہے۔
اب طالبان اور دوسرے مزاحمت کار کابل کے مضافات تک پہنچ چکے ہیں۔ اور یہی وجہ ہےکہ افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈروں نے کمک طلب کی ہے۔غیر ملکی افواج کے کمانڈر یہ سمجھتے ہیں کہ مزید فوجیوں کی مدد سے افغانستان کے بڑے شہروں کی سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے گا جس سے افغانستان کی حکومت عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائےگی۔
لیکن کابل کے مضافات میں بسنے والے افغان شہری مزید امریکی فوج کی آمد کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔
کابل کے مضافات میں کچے گھر کی دیوار کے ساتھ کھڑے عمر رسیدہ حیات اللہ کا خیال ہے کہ ان کے گاؤں میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہے لیکن وہاں سے گاڑی پر صرف پانچ منٹ کا سفر آپ کو کو طالبان کے زیر اثر علاقے میں پہنچا دیتا ہے۔
حیات اللہ طالبان کے خوف میں مبتلا نہیں ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ مزید غیر ملکی افواج کی افغانستان آمد خوش آئند نہیں ہے۔
حیات اللہ کے پڑوسی حاجی ربات ان کے خیالات سے بالکل متفق ہیں ۔حاجی ربات کا خیال ہے کہ مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی ایک فاش غلطی ہو گی کیونکہ جب بھی امریکہ اضافی فوجی بھیجتا ہے وہ افغانستان کے لیے مزید پریشانیوں کا سبب بنتے ہیں‘۔ حاجی ربات کا کہنا ہے: ’افغان کے مسئلے کا حل مزاحمت کاروں سے مذاکرات میں ہے۔‘
بی بی سی کے نمائندے کی کابل میں نوجوانوں کے ایک گروپ سے ملاقات ہوئی جو فاسٹ فوڈ پر کھانا کھا رہے تھے۔ یہ تمام نوجوان اچھی نوکریاں کر رہے ہیں اور ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ طالبان کی موجودگی میں ان کے لیے روزگار کے ایسے مواقع پیدا ہونا بہت ہی مشکل تھا۔ تاہم یہ تمام نوجوان بھی مزید فوجوں کی افغانستان آمد سے متعلق شبہات رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نوجوانوں کے گروپ میں شامل ادریس ،جو ایک این جی او میں کام کرتے ہیں، کا خیال ہے کہ مزید غیر ملکی افواج کی آمد افغانستان کے لیے اچھی نہیں ہے۔ ادریس کا کہنا ہے کہ اگر غیر ملکی فوجی افغانستان کی فوج کی تربیت کریں تو یہ بہتر ہو گا۔
ادریس کے دوست جاوید کو یقین ہے کہ غیر ملکی افواج ہی دراصل افغانستان میں بدامنی کی وجہ ہیں۔ جاوید کہتے ہیں کہ پچھلے آٹھ سالوں میں انہوں (غیر ملکی فوجیوں) نے کچھ حاصل نہیں کیا اور دن بدن سکیورٹی کی صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔ جاوید کا کہنا ہے کہ دنیا افغانستان کی مدد کرے لیکن وہ اپنے فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لے۔
کئی افغان شہری سمجھتے ہیں کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء مکمل تباہی کا ایک منصوبہ ہے اور ملک میں ایک بار پھر خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔
افغانستان کے کچھ حصوں نے حقیقت میں ترقی کی ہے۔ کابل میں کئی ایسی مارکیٹیں ہیں جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد شاپنگ کرتی نظر آتی ہے۔ اور ایسا غیر ملکی افواج کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لیکن انہی بازاروں میں کاروبار کرنے والے لوگ بھی افغانستان میں مزید فوجیوں کی آمد سے متفق نہیں ہیں۔
ایک سبزی فروش نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ انہیں غیر ملکی افواج اس لیے ناپسند ہیں کہ ان کی آمد سے خود کش حملے ہوتے ہیں۔
ایسے جذبات شاید افغان فوجیوں کی بے قدری ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغان فوجی ہی قربانیاں دے رہے ہیں۔ پچھلے ایک سال میں ایک ہزار افغان فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ تعداد تمام غیر ملکی افواج کی مجموعی ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہے۔
محمد دین کا بھائی جو فوج میں افسر تھا پچھلے سال ایک خود کش حملے میں ہلاک ہو گیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ غیر ملکی افواج افغانستان میں اس وقت تک رہیں جب تک وہاں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہو جاتی۔
افغانستان کی فوج بہتر ہو رہی ہے لیکن ابھی اسے طالبان اور دیگر مزاحمت کاروں سے آزادانہ طور پر نمٹنے کی صلاحیت حاصل کرنے میں کئی سال سال لگ سکتے ہیں۔ جہاں افغانوں کی اکثریت غیر ملکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کے حق میں نہیں ہے وہاں اکثر یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کو کچھ عرصے تک غیر ملکی افواج پر ہی بھروسہ کرنا پڑے گا۔




















