’بیس ممالک فوج بھیجیں گے‘

نیٹو اجلاس
،تصویر کا کیپشنکئی یورپی ممالک فوج بھیجنے سے گریزاں ہیں

نیٹو کے حکام نے کہا ہے کہ افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی کے اعلان کے بعد بیس سے زیادہ ممالک افغانستان فوج بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ دو روزہ اجلاس کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔

اجلاس میں نیٹو کے رکن ممالک صدر اوباما کی طرف سے مزید دس ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کی درخواست پر غور کریں گے۔

نیٹو کے ترجمان نے کہا کہ تنظیم کے ارکان یقیناً پانچ ہزار مزید فوجی روانہ کرنے کا عہد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تربیت دینے والوں کی زیادہ ضرورت ہے۔

کئی یورپی ممالک اس آٹھ سالہ لڑائی میں مزید فوجی روانہ کرنے سے گریزاں ہیں۔ تاہم اٹلی کے وزیر دفاع نے جمعرات کو ایک اخبار کو انٹرویو میں بتایا کہ وہ مزید ایک ہزار فوجی افغانستان روانہ کریں گے۔ افغانستان میں فی الحال تین ہزار دو سو اطالوی فوجی تعینات ہیں۔

روس کے صدر دمتری میڈوڈیو نے اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی سے ملاقات کے بعد عندیہ دیا کہ ان کا ملک بھی افغانستان میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ فو افغانستان جانے والی افواج کو راستہ دینے اور اقتصادی اور پولیس اور فوج کو تربیت دینے کے منصوبوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

دریں اثناء جرمنی کی پارلیمان نے اپنح حکومت کو افغانستان فوج بھیجنے کے اجازت نامے میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ لیکن اس نے فوجیوں کی تعداد کی حد چار ہزار پانچ سو سے بڑھانے سے انکار کر دیا۔