پانچ ہزار مزید نیٹو فوج کا وعدہ

مسٹر رسموسن نے کہا ہے کہ نیٹو فوج اس وقت تک افغانستان میں موجود رہے گی جب تک وہاں اس کی ضرورت ہو
،تصویر کا کیپشنمسٹر رسموسن نے کہا ہے کہ نیٹو فوج اس وقت تک افغانستان میں موجود رہے گی جب تک وہاں اس کی ضرورت ہو

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ رکن ممالک افغانستان میں القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید فوج بھیجیں گے۔

اینڈرز فو رسموسن نے کہا ہے کہ امریکہ کو چھوڑ کر باقی نیٹو رکن ممالک پانچ ہزار اضافی فوج بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ تعداد اس سے بھی ایک ڈیڑھ ہزار زیادہ ہو۔

انہوں نے یہ بات ایک ایسے موقع پر کی ہے جب امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج کو تیس ہزار کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مسٹر رسموسن نے کہا ہے کہ نیٹو فوج اس وقت تک افغانستان میں موجود رہے گی جب تک وہاں اس کی ضرورت ہو۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعداد ان اڑتیس ہزار نیٹو فوجیوں کے علاوہ ہو گی جو پہلے ہی افغانستان میں موجود ہیں۔

’جو کچھ افغانستان میں ہو رہا ہے وہ ہمارے شہریوں کے لیے واضح خطرہ ہے کیونکہ افغانستان میں عدم استحکام ہم سب کو غیر محفوظ بنا دے گا۔‘

اس سے پہلے منگل کے روز امریکی صدر براک اوبامانے تیس ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف مربوط کارروائی اور ملک میں استحکام پیدا کرنے کے بعد، جولائی دوہزار گیارہ سے امریکی افواج کا انخلاء شروع کردیا جائے گا۔

مسٹر رسموسن نے کہا کہ نیٹو کے لیے مزید فوج بھیجنے والے ملکوں کے نام اور فوجیوں کی تعداد کا اعلان برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کی طرف سے اٹھائیس جنوری کو لندن میں بلائی جانے والی افغان کانفرنس کے بعد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو کی حکمت عملی یہ ہے کہ ملک کے معاملات چلانے کی ذمہ داری جلد از جلد افغانوں کے سپرد کر دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیٹو افواج افغان حکومت کی معاون میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔

برسلز میں نیٹو ہیڈکوارٹرز میں اپنے ہفتہ وار خطاب میں نیٹو سیکریٹری جنرل نے کہا کہ افغانستان میں دس سے پندرہ اضلاع ایسے ہیں جہاں سن دو ہزار دس میں افغان سکیورٹی اہلکار ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہیں۔