نیٹو پر مزید فوج کے لیے دباؤ

صدر اوباما کی طرف سے نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد امریکہ اپنے نیٹو اتحادیوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ بھی مزید فوج افغانستان بھیجیں۔
اس سلسلے میں نیٹو ملکوں کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس برسلز میں ہو رہا ہے جس میں سینئر امریکی اہلکاروں کی شرکت بھی متوقع ہے۔
امریکہ کی خواہش ہے کہ اس کے نیٹو اتحادی مزید افغانستان میں مزید فوج تعینات کریں لیکن کئی یورپی ملک ایسا کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
منگل کے روز امریکی صدر براک اوبامانے تیس ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف مربوط کارروائی اور ملک میں استحکام پیدا کرنے کے بعد، جولائی دوہزار گیارہ سے امریکی افواج کا انخلاء شروع کردیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ اہلکاروں نے بدھ کے روز صدر اوباما کے اعلان سے متعلق امریکہ کے اندر حمایت حاصل کرنے کے لیے کوششیں شروع کیں۔
امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن، وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اس موضوع پر مختلف کانگریس کمیٹیوں سے خطاب کیا۔
صدر اوباما کے پالیسی اعلان سے متعلق کانگریس کمیٹی سے اپنے خطاب میں ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک صحیح فیصلہ ہے جو ہمیں افغانستان میں حالات تبدیل کرنے کے لیے درکار قوت فراہم کرے گا۔
ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ اگرچہ اس بارے میں کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی لیکن انہیں امید ہے کہ اگلے اٹھارہ سے چوبیس ماہ میں اہم پیش رفت ہو گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے ایک کانگریس کمیٹی کو بتایا کہ امریکہ کی طرف سے کارروائی نہ کرنے کا مطلب ملک کے زیادہ تر حصہ پر طالبان کا کنٹرول اور القاعدہ کے لیے ایک پناہ گاہ کا قیام ہے۔
تاہم سینیئر ریپبلکن رہنما جان مکین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ صدر اوباما کی نئی حکمت عملی تو کامیاب ہوگی امریکی اور برطانوی فوجیوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ انہوں نے صدر اوباما کی طرف سے فوج کے انخلاء کی تاریخ کا اعلان کرنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
’ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دشمن پر واضح کریں کہ ہم کامیاب ہوں گے اور ہم اس وقت تک وہاں رہیں گے جب تک ہم کامیابی حاصل نہیں کر لیتے۔‘
امریکی کی طرف سے مزید تیس ہزار فوجی افغانستان بھیجنے سے وہاں امریکی فوج کی کل تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو جائے گی۔ امریکہ نے اپنے نیٹو اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ بھی افغانستان میں اپنی فوج میں دس ہزار کا اضافہ کریں۔
بدھ کے روز نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا تھا کہ رکن ممالک افغانستان میں القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید فوج بھیجیں گے۔
اینڈرز فو رسموسن نے کہا تھا کہ امریکہ کو چھوڑ کر باقی نیٹو رکن ممالک پانچ ہزار اضافی فوج بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ تعداد اس سے بھی ایک ڈیڑھ ہزار زیادہ ہو سکتی ہے۔
مسٹر رسموسن نے کہا ہے کہ نیٹو فوج اس وقت تک افغانستان میں موجود رہے گی جب تک وہاں اس کی ضرورت ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعداد ان اڑتیس ہزار نیٹو فوجیوں کے علاوہ ہو گی جو پہلے ہی افغانستان میں موجود ہیں۔
مسٹر رسموسن نے کہا کہ نیٹو کے لیے مزید فوج بھیجنے والے ملکوں کے نام اور فوجیوں کی تعداد کا اعلان برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کی طرف سے اٹھائیس جنوری کو لندن میں بلائی جانے والی افغان کانفرنس کے بعد کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو کی حکمت عملی یہ ہے کہ ملک کے معاملات چلانے کی ذمہ داری جلد از جلد افغانوں کے سپرد کر دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیٹو افواج افغان حکومت کی معاون میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔
برسلز میں نیٹو ہیڈکوارٹرز میں اپنے ہفتہ وار خطاب میں نیٹو سیکریٹری جنرل نے کہا کہ افغانستان میں دس سے پندرہ اضلاع ایسے ہیں جہاں سن دو ہزار دس میں افغان سکیورٹی اہلکار ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہیں۔
یاد رہے کہ برطانیہ، جارجیا، پولینڈ اور سلواکیہ پہلے ہی مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا وعدہ کر چکے ہیں جبکہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور ڈنمارک نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔




















