اوباما افغان پالیسی پر کڑی تنقید

امریکہ کے صدر براک اوباما کی طرف سے افغانستان مزید فوجی بھیجنے کے فیصلے کے درست ہونے پر امریکی سینیٹر شک کا اظہار کر رہے ہیں۔
امریکی سینیٹ میں جمعرات کو صدر اوباما کی افغان پالیسی پر بحث کے دوسرے دن ان کی اپنی ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے تنقید کی۔ ایک ڈیموکریٹ سینیٹر نے کہا کہ افغانستان سے فوجیوں کی واپسی کے پروگرام پر عمل کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام پر اتنا ہی اعتبار کیا جا سکتا ہے جتنا دلدل پر۔
صدر اوباما کے اکیس ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کے فیصلہ کے صرف پانچ ماہ بعد ہی مزید تیس ہزار فوجی بھیجنے کے فیصلے سے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں پریشان ہیں۔
سینیٹ کی خارجہ کمیٹی پر موجود رپبلکن چاننا چاہتے ہیں کے افغانستان مزید فوجی بھیجنے سے پاکستان میں موجود القاعدہ اور طالبان کے ارکان کا مسئلہ کیسے حل ہوگا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ عمومی طور پر امریکی پالیسی میں اب بھی ابہام ہے۔
صدر پر سب سے زیادہ تنقید ان کی اپنی پارٹی کےارکان کے طرف سے کی گئی اور امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کو ان کے تند و تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سینیٹر رس فینگولڈ جاننا چاہتے تھے کیا افغانستان میں امریکی فوج میں اضافے سے شدت پسند خطے کے دوسرے ممالک پھیل سکتے ہیں؟
امریکی کانگریس مزید فوجی افغانستان بھیجنے کے لیے مزید پیسوں کی منظوری تو توقع ہے کہ دے دے گی لیکن اس موضوع پر بحث کے دوران واضح ہو گیا ہے کہ مقننہ کو اس منصوبے پر زیادہ اعتماد نہیں اور اس معاملے میں وہ عوام میں پائی جانے والی تشویش کی عکاسی کر رہی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ اب یورپ کا دورے کرنے جا رہی ہیں جہاں وہ نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کو امریکی موقف سے آگاہ کریں گی۔
















