واشنگٹن ڈائری

پاکستان نے امریکی صدر کے منصوبے پر پہلے ہی تحفظات ظاہر کر دیے ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان نے امریکی صدر کے منصوبے پر پہلے ہی تحفظات ظاہر کر دیے ہیں
    • مصنف, جاوید سومرو
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

اوباما کی پالیسیامریکی صدر براک اوباما نے لگ بھگ تین ماہ کی مشاورت اور بحث کے بعد افغانستان اور پاکستان سے متعلق جس نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے اس کے نفاذ سے قبل ہی اس کی ناکامی کی علامات نمودار ہوگئی ہیں۔

گزشتہ پورا ہفتہ امریکہ کے اعلیٰ اہلکاروں کا ان وضاحتوں میں صرف ہوا کہ صدر اوباما نے جولائی دوہزار گیارہ سے امریکی افواج کے انخلا کی جو بات کی ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ یہ کوئی حتمی تاریخ ہے۔ ان کے بقول انخلا کا دار و مدار خطے کے حالات پر منحصر ہوگا۔

لیکن امریکی تجزیہ نگار سوالات اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایسا تھا تو پھر براک اوباما کو اس تاریخ کے اعلان کی ضرورت ہی کیا تھی؟

اصل میں اوباما کی تقریر کے تین حصے تھے جو ان کے تئیں تین الگ الگ سامعین کو مخاطب کرتے تھے۔ ایک حصہ ان کی تقریر کا افغانستان اور پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کے لیے تھا، دوسرہ حصہ امریکہ کے عوام کے لیے تھا اور تیسرہ حصہ ان کی اپنی جماعت کے سخت گیر ڈیموکریٹ ارکان کے لیے تھا۔

لیکن مسئلہ اس پالیسی کے ساتھ یہ ہے کہ بدقسمتی سے یہ تینوں میں سے کسی کو بھی پورے طور پر خوش نہیں کرسکی۔

پاکستان نے اس منصوبے پر پہلے ہی اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں، افغانستان کے صدر حامد کرزئی کہتے ہیں کہ ان کا ملک پانچ برس میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہوگا، امریکہ کے عام لوگوں میں سے جو اوباما مخالف ہیں اور ریپبلکن ہیں ان کا کہنا ہے کہ انخلا کی بات کرکے اوباما نے منصوبے پر ناکامی کے مہر ثبت کردی ہے، جبکہ جنگ مخالف کٹر ڈیموکریٹ لوگوں کا موقف ہے کہ مزید فوج بھیجنا نہ صرف جنگ کو طول دیگا بلکہ اس سے تنازعہ مزید بڑھے گا اور جنگ پر خرچ ہونے والی رقم سے امریکہ کی اقتصادی حالت اور زیادہ خراب ہوگی۔ اور پھر اس طرح کی گوریلا جنگ جیتنے کے امکانات بھی کتنے ہوتے ہیں؟

امریکہ جتنی کوشش کررہا ہے کہ اس دلدل سے باعزت طور پر نکلے اور اس کا نام ان ممالک کی فہرست میں شامل نہ ہو جن پر یہ مصرع صادر آتا ہے کہ ’بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے‘، اتنا ہی دھنستا جارہا ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں قومی تعمیر نو کے مقصد سے تو کنارہ کشی اختیار کرلی ہے لیکن بس اب صرف اتنا حاصل کرنا چاہتا ہے کے وہاں حالات قدرے بہتر ہوں اور ذمہ داریاں افغان حکومت کو سونپ کر نکل آئے۔

امریکہ کے ایک اہم تھنک ٹینک ’پیو‘ نے حال ہی میں لیے جانے والے ایک رائے عامہ کے جائزے کو جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چالیس برس میں امریکیوں کی سب سے زیادہ تعداد اب یہ چاہتی ہے کہ دنیا کو اپنے حال پہ چھوڑ دیا جائے اور امریکہ صرف اپنے مسائل حل کرنے ہر توجہ دے۔

وڈز ایکسیڈنٹ کے بعد سڑک پر ہی سو گئے
،تصویر کا کیپشنوڈز ایکسیڈنٹ کے بعد سڑک پر ہی سو گئے

جائزے کی بنیاد پر کیے گئے تجزئے میں کہا گیا ہے کہ امریکیوں کی یہ رائے اس لئے بنی ہے کیونک گزشتہ آٹھ برس کی جنگوں، امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں، معیشت کی بدحالی، دنیا کے انتہائی غیر محفوظ اور غیرمستحکم جگہ بن جانے اور امریکہ کے اقدامات سے حالات میں بہتری کی امید نظر نہیں آرہی اس لیے لوگ تنگ آ چکے ہیں۔

ٹائیگر وڈز کے خراٹے

سندھی زبان میں کہاوت ہے کہ انسان کو سولی پر بھی نیند آجاتی ہے۔ گالف کے مایہ ناز امریکی کھلاڑی ٹائیگر وڈز کو پتا نہیں سولی پر نیند آئے گی یا نہیں لیکن ان کا پچھلے ہفتے کار کا ایکسیڈنٹ ہوا جس کے بعد وہ سڑک پر لمبی تان کر سوگئے اور جب ایک پڑوسی نے انہیں دیکھا تو وہ مزے سے خراٹے لے رہے تھے۔

پڑوسی جیریئس ایڈم نے پولیس کو بتایا کہ جب انہوں نے ٹائیگر کی مدد کی اس وقت ان کو چہرے اور جسم پر چوٹیں تھیں اور لگتا نہیں تھا کہ انہوں نے منشیات کا استعمال کر رکھا ہو۔

ٹائیگر ووڈ کی اپنی ایک دوست لڑکی کے معاملے پر بیوی سے تو تو میں میں ہوئی جس کے بعد وہ غصے میں گاڑی لیکر نکلے لیکن ان کا راستے میں ایکسیڈینٹ ہوگیا تھا۔