’فوجی انخلاء کی ڈیڈ لائن حتمی نہیں‘

امریکی انتظامیہ کے اہم ارکان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے جولائی سنہ دو ہزار گیارہ میں امریکی فوج کے انخلاء کے آغاز کے باوجود امریکہ وہاں آنے والے کئی برس تک قابلِ ذکر تعداد میں اپنی فوج موجود رکھے گا۔
امریکی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے امریکی سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ جولائی دو ہزار گیارہ میں تو ایک ’عمل کی ابتداء ہو گی‘ جبکہ امریکی سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن کے مطابق صدر اوباما کی جانب سے دی گئی یہ ڈیڈ لائن بالکل حتمی نہیں ہے۔
امریکی سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ انخلاء کی کوئی ڈیڈ لائن موجود نہیں ہے اور زمینی حالات دیکھ کر ہی افغان حکام کو ضلع بہ ضلع ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی وطن واپسی کا عمل بھی بتدریج ہوگا اور اگر ضرورت پڑی تو امریکہ علاقے کی نگرانی جاری رکھے گا۔
رابرٹ گیٹس نے کہا کہ ’امریکی صدر چاہتے ہیں کہ افغان حکومت فوجیوں کی بھرتی، ان کی تربیت اور تعیناتی کے عمل کو تیز کرے اور یہ کہ سنہ 2011 میں امریکی جرنیلوں کو یہ پتہ چل جائے گا کہ آیا ہماری حکمتِ عملی کارگر رہی ہے یا نہیں‘۔
اسی حوالے سے امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم انخلاء کی کسی پالیسی یا حتمی ڈیڈ لائن کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ ہم ایک جائزے کی بات کر ہے ہیں اور جو یہ ہے کہ ہم افغان فوج کو ذمہ داریاں منتقل کرنے کا عمل شروع کر سکتے ہیں‘۔
اعلٰی امریکی عہدیداروں کی جانب سے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رپبلیکنز نے صدر اوباما کی جانب سے انخلاء کی تاریخ کو ’یکطرفہ‘ قرا دیتے ہوئے اسے ممکنہ طور پر طالبان کے لیے حوصلہ افزاء قرار دیا ہے۔ ریپبلکنز سینیٹر اور سابق صدارتی امیدوار جان مکین کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے شدت پسندوں کو ایک غلط پیغام ملا ہے۔
ادھر افغان حکومت میں بھی یہ خدشات پائے جا رہے ہیں کہ وہ ملک سے امریکی فوج کے جلد انخلاء کی صورت میں حالات سے نمٹنے میں ناکام رہے گی۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز یہ جانتی ہیں کہ ان کا ملک کس نازک موڑ پر کھڑا ہے، طالبان کی قوت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور اگرچہ مزید غیر ملکی فوج کے حوالے سے افغانستان میں زیادہ گرمجوشی نہیں پائی جاتی تاہم حکام یہ جانتے ہیں کہ وہ حالات سے اپنے بل بوتے پر نمٹ نہیں سکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی ٹی وی سی این این سے بات کرتے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ’افغانستان اس نئی حکمتِ عملی کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس میں اپنا حصہ بٹانے کی پوری کوشش کرے گا‘۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’بین الاقوامی برادری کو ہمارے ساتھ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغان حقیقتوں کا ادراک کرنا چاہیے‘۔
حامد کرزئی نے کہا کہ ’اگر اس میں زیادہ وقت لگتا ہے تو انہیں ہمارا ساتھ دینا ہی ہو گا‘۔
خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے اپنی نئی افغان پالیسی میں افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں تیس ہزار کا اضافہ.اعلان کرتے ہوئے جولائی سنہ 2011 میں افغانستان سے فوج کے انخلاء کا عمل شروع کرنے کی بات کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ افغانستان میں اصل مقصد القاعدہ کو شکست دینا، طالبان کے زور کو توڑنا اور انہیں اس قابل نہ چھوڑنا ہے کہ وہ حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش کر سکیں۔






















