خود کش حملہ ہم نے کیا: طالبان

کابل خودکش حملہ
،تصویر کا کیپشنکابل میں حالیہ مہینوں میں شدت پسندی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

افغانستان میں سرگرم تحریک طالبان نے منگل کے روز کابل میں ہوئے خودکش بم حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بی بی سی کو فون پر بھیجے گئے پیغام میں تحریک کے ایک ترجمان نوراللہ مجاہد نے کہا کہ اس حملے کا نشانہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے اہلکار تھے۔

خودکش حملہ ضلع وزیر اکبر خان میں واقع ایک ہوٹل کے قریب ہوا ہے جہاں متعدد سفارت کار اور غیر ملکی رہائش پذیر ہیں۔خودکش حملہ اس وقت ہوا ہے جب تھوڑی دیر پہلے ہی افغان صدر نے ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کےحوالے سے تین روزہ کانفرس کا افتتاح کیا تھا۔

تحریک طالبان کی جانب سے موبائیل فون پر بھیجے گئے ایس ایم ایس میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کا نشانہ کابل میں بھارتی انٹیلی جنس کا دفتر تھا ’جس پر کامیاب کارروائی کی گئی ہے۔‘

اپنے آپ کو تحریک طالبان ترجمان ظاہر کرنے والے نوراللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں را کے پانچ افسر اور تیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

دھماکہ اس جگہ سے کئی کلومیڑ کی دوری پر ہوا ہے جہاں انسداد بد عنوانی کے حوالے سے ایک کانفرس میں دو سو کے قریب عہدیداران اکٹھے ہوئے ہیں۔

کانفرس کے آغاز سے قبل خاموشی اختیار کی گئی جس کے بعد صدر کرزئی نے خطاب کیا۔ خیال رہے کہ افعانستان میں بد عنوانی کے خاتمے کے لیے مغربی ممالک کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے مطابق خودکش حملے میں سابق نائب صدر احمد ضیا محسود کے دو محافظ بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ کابل میں حالیہ مہینوں متعدد بم حملے ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ کابل میں بین الاقوامی فوج نیٹو کے اڈے پر کار خودکش حملے میں تین غیر ملکی فوج اور تین افغان شہری زخمی ہو گئے تھے۔

منگل کو ہونے والا خودکش حملہ افغان صدر حامد کرزئی کے دوسری مدت کے لیے حلف اٹھانے کے بعد اس طرز کا پہلا حملہ ہے ۔صدر حامد کرزئی ملک میں بد عنوانی اور بدامنی کے خلاف اقدامات کرنے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی فوج کے افسران نے امریکی فوج کے حوالے سے کابل میں مذاکرات کیے ہیں۔ ایڈمرل مائک مولن نے کہا ہے کہ افغانستان میں حالات بہتر ہونے سے پہلے بد تر ہونے کا امکان ہے۔