امریکی سائبر سکیورٹی چیف کا تقرر

اورڈ کا کام مختلف ایجنسیوں کو اکٹھا کرنا ہے اور سائیبر حملے کے خلاف ملکی دفاع کو مضبوط کرنا ہے
،تصویر کا کیپشناورڈ کا کام مختلف ایجنسیوں کو اکٹھا کرنا ہے اور سائیبر حملے کے خلاف ملکی دفاع کو مضبوط کرنا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے سات ماہ کی تلاش کے بعد ہاورڈ شمٹ کو سائیبر سکیورٹی چیف کے طور پر مقرر کیا ہے۔

ہاورڈ شمٹ ای بے اور مائیکروسافٹ کے سابق ایگزیکٹو رہ چکے ہیں۔ ان کی تعیناتی اس وقت ہوئی جب کئی افراد نے یہ ملازمت لینے سے انکار کردیا تھا۔

ہاورڈ کا کام مختلف ایجنسیوں کو اکٹھا کرنا ہے اور سائبر حملے کے خلاف ملکی دفاع کو مضبوط کرنا ہے۔ رواں سال مئی میں صدر اوباما نے کہا تھا کہ وہ خود سائبر سکیورٹی کے سربراہ کا تقرر کریں گے۔

ہاورڈ نے اپنی تعیناتی کے بعد کہا ’میں اپنے ساتھ چالیس سال کا تجربہ اور اس دوران مختلف چیلنجوں سے سیکھے گئے سبق لایا ہوں۔ ہماری ڈیجیٹل دنیا میں ہر روز ایک بیا موقع اور ایک نیا خطرہ ہوتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ صدر نے پہلے ہی ان کو ترجیح سے آگاہ کردیا ہے۔ ان ترجیحات میں امریکی نیٹ ورک کو محفوظ رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی، کسی متوقع سائیبر حملے کی صورت میں منظم اقدام اور سائیبر سکیورٹی کے حوالے سے قومی مہم چلانا شامل ہیں۔

تاہم آئی ٹی صنعت میں چند کا کہنا ہے کہ ہاورڈ کو مختلف حکومتی ایجنسیوں کو ساتھ لے کر چلنے میں مشکلات کا سامنا رہے گا کیونکہ ان ایجنسیوں کے اپنے سائبر سکیورٹی ایشو ہیں۔

فورٹیفائی سافٹ ویئر کے راجر تھورنٹن کا کہنا ہے ’میرے خیال میں یہ ایک نہایت سخت ملازمت ہے۔‘