ملزمان کا پیچھا کریں گے: اوباما

- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پٹسبرگ
امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ کرسمس کے روز امریکی مسافر طیارے کو دھماکے سے اڑانے کی سازش میں ملوث تمام افراد کو قانون کی گرفت میں لانے تک امریکہ چین سے نہیں بیٹھے گا۔
انہوں نے کہا کہ شدت پسند امریکہ پر حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان، پاکستان، یمن یا دنیا کے کسی بھی حصے میں کر رہے ہوں گے تو امریکہ ان کو بتاہ کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل استعمال کرے گا۔
براک اوباما نے یہ بات اس دن کی ہے جب القائدہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ نے کرسمس کے روز امریکہ میں ایک مسافر طیارے کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی ذمہ داری قبول کی۔
’جزیرہ نما عرب کی القائدہ‘ کے نام سے اپنی پہچان کرانے والی اس شدت پسند تنظیم نے اپنی ویب سائٹ پر اس ناکام حملے میں ملوث نائجیریائی ملزم عمر فاروق عبدالمطلب کی تصویر شائع کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملہ امریکہ کی جانب سے یمن میں حالیہ حملوں کا رد عمل ہے۔
ملزم عمر فاروق نے کرسمس کے دن ہالینڈ سے امریکہ کے شہر ڈیٹرائیٹ آتی ہوئی مسافر پرواز کے دوران ایک بم دھماکہ کرنے کی کوشش کی لیکن دھماکہ نہ ہوسکا اور مسافروں اور عملے کے افراد نے اس ملزم کو قابو میں کرلیا۔
امریکی حکام نے اس ملزم پر پرواز کے دوران بم دھماکہ کرنے اور طیارے میں سوار لگ بھگ پونے تین سو مسافروں کو ہلاک کرنے کی سازش کرنے کی فردجرم عائد کی ہے۔
اس واقعہ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے صدر براک اوباما نے کہا کہ یہ واقعہ ہمیں ایک مرتبہ پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ کس طرح شدت پسند معصوم انسانوں کو قتل کرنے کے لیے منصوبے بنا رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اس واقعہ کے بعد دو تحقیقات کا حکم دیا ہے جن میں سے ایک میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ کس طرح ملزم مشتبہ افراد کی فہرست پر ہونے کے باوجود امریکہ جانے والی پرواز پر سوار ہوگیا جبکہ دوسری تحقیقات اس بات کا جائزہ لیں گی کہ فضائی سفر کو مزید محفوظ بنانے کے لئے کونسے اقدامات کئے جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ صرف اپنی سرحدوں کو ہی محفوظ نہیں بنائے گابلکہ یہ حملہ آور افغانستان، پاکستان، یمن، صومالیہ یا کہیں پر بھی ہوں گے ان کو تباہ کرنے اور شکست دینے کے لیے امریکہ اپنے پاس موجود تمام طاقت اور ذرائع استعمال کرے گا۔
اس موقع پر صدر اوباما نے ایران میں مظاہرین کے خلاف حکومتی طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی اور ایرانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے شہریوں کے احتجاج کے کے بنیادی حق کو تسلیم کرے۔





















