افغانستان میں ’راک اینڈ رول‘

’افغانستان میں انڈی راک میوزک بجانا واقعی ایک خواب لگتا ہے‘
،تصویر کا کیپشن’افغانستان میں انڈی راک میوزک بجانا واقعی ایک خواب لگتا ہے‘

یہ موسیقی افغانستان کی ہے، ایسی موسیقی جو شاید ہی پہلے افغانستان سے سنی گئی ہو اور خاص طور پر ایسی موسیقی جو تین نوجوانوں نے بنائی ہو۔

’کابل ڈریم‘ میں گائیک ہیں سلیمون قرداش، صدیقی احمد ’باس پلیئر‘ ہیں جب کہ ڈرمر مجتبیٰ حبیبی ہیں اور ان نوجوانوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا بینڈ ملک کا پہلا ’راک اینڈ رول‘ گروپ ہے۔

اس گروپ کے انیس سالہ گائیک کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل انھوں نے یہ بینڈ بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور کیونکہ یہ بینڈ افغانستان میں بنا تھا اس لیے انھوں نے اس مناسبت سے اس کا نام کابل ڈریمز رکھنا مناسب سمجھا۔

انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں انڈی راک میوزک بجانا واقعی ایک خواب لگتا ہے‘۔

اس گروپ کے ساتھ میری ملاقات دہلی میں ہوئی جہاں وہ ساوتھ ایشین بینڈز فیسٹول میں حصہ لے رہے تھے جس کا مقصد خطے میں ثقافتی رابطوں کو فروغ دینا ہے۔

قرداش جنھیں انڈی فیشن پسند ہے، برطانوی پاپ بینڈ ریڈیو ہیڈ اور ٹرویس سن کر جوان ہوئے ہیں۔

انیس سو نوے کی دہائی میں افغانستان میں سیاسی عدم استحکام اور جنگ کے باعث یہ تینوں نوجوان ہمسایہ ممالک پاکستان، ایران اور ازبکستان میں پناہ لینے پر مجبور تھے اور جہاں انھیں مغربی موسیقی سننے اور سمجھنے کا موقع ملا۔

احمد کا جو طالبان کے دور میں دس سال تک پاکستان میں رہے کہنا تھا کہ اس دور میں وہ اپنے ملک سے دور تھے لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ وہاں انھیں مغربی موسیقی سننے اور سمجھنے کا موقع ملا اور وہاں پر انھیں اس کی تربیت لینے کی بہتر سہولیات موجود تھیں۔

افغانستان کی موسیقی پر دو ساز رباب اور طنبورہ کا بہت اثر ہے لیکن انڈی راک ایک نئی چیز ہے اور یہ افغان نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

احمد کا کہنا ہے کہ بہت سے افغان نوجوان اب مغربی موسیقی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کیونکہ ابھی افغانستان کا اپنا کوئی راک میوزک نہیں ہے اس لیے نوجوان زیادہ تر مغربی یا پھر ہمسایہ ممالک پاکستان اور بھارت کے بینڈ کو سنتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ افغانستان کا اپنا بینڈ ہو۔

کابل ڈریمز مقامی دہنوں کو راک اور رول میں ڈھالتا ہے۔ یہ بینڈ انگریزی میں گاتا ہے جو کہ ایک ہت غیر معمولی بات ہے۔

احمد کا کہنا تھا کیونکہ ان تینوں کی زبانیں دری، فارسی اور ازبک ہیں اس لیے انھوں نے انگریزی میں گانے کا فیصلہ کیا۔

حبیبی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ انگریزی زبان جو دنیا بھر میں سمجھی جاتی ہے اس میں گانے گانے سے وہ زیادہ لوگ تک پہنچ سکتے ہیں۔

لیکن اس بینڈ نے ابھی تک اپنی کو ایلبم جاری نہیں کی۔ ابھی تک انھوں نے مخصوص لوگوں کے لیے ہی اپنا فن پیش کیا ہے جن میں بیرون ملک رہنے والے افغان، این جی اوز کے ورکرز اور افغانستان کے تعلیم یافتہ لوگوں شامل ہیں۔