ڈاکٹر عافیہ کے مقدمے کی سماعت

- مصنف, حسن مجتبیٰ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
افغانستان میں امریکی سکیورٹی و حکومتی اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے الزام میں نیویارک میں قید پاکستانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کی باقائدہ سماعت کیلیے نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے سولہ رکنی جیوری کا انتخاب مکمل کرلیا ہے۔
جیوری نو خواتین اور سات مردوں پر مشتمل ہے۔ جیوری کے انتخاب کے دوران کمرہء عدالت میں موجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے ایک موقع پر اپنے مقدمے میں جیوری کے ممکنہ اراکین سے مخاطب ہوتے ہو ئے کہا کہ ’میں امریکہ کی دشمن نہیں اور نہ ہی میں نیویارک تباہ کرنا چاہتی ہوں۔ میں امن چاہتی ہوں اور آپ لوگ (جیوری ممکنہ اراکین) امریکی صدر کو جا کر بتائيں کہ میں طالبان اور پاکستان کے درمیان ایک دن کے اندر امن قائم کروا سکتی ہوں۔‘
جمعرات کی صبح نیویارک کے علاقے مینہیٹن میں امریکی وفاقی عدالت یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج رچرڈ بریمن کی سربراہی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی حکومت کے قائم مقدمے کی سماعت کیلیے جیوری کے انتخاب کے عمل کا دوسرا دن شروع ہوا توجج رچرڈ بریمن نے کمرہ عدالت میں موجود چھتیس مرد و خواتین سے ان کے انتخاب کی صورت میں ان کے مقدمے میں ناانصافی کرنے کے امکان کے متعلق سوالات پوچھے۔
جج جاننا چاہتےتھے کہ آیا ان کا کوئي عزیز گيارہ ستمبر کے حملوں سے اگر متاثر ہوا تھا اور وہ کس قدر مقدمے پر اثر ڈال سکتا ہے اور یہ بھی کہ دوران سماعت ان کے سامنے یہ بھی آئے گا کہ مبینہ طور پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے ایسی تحریریں لکھی ہیں جو استغاثہ کے مطابق یہودی مخالف اور صیہونی مخالف ہیں تو کیا ان کے سامنے ایسی مبینہ معلومات یا مبینہ مواد مقدمے پر اثر انداز ہوگا جس سے ان سے نا انصافی متوقع ہو؟
جج بریمین نے سب کے فرداً فرداً نام لے کر ان سے ایسے سوالات کیے جن کا جواب تمام ممکنہ اراکین نے نفی میں دیا۔ جیوری کے ممکنہ اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کہا کہ ’نہ میں امریکہ کے خلاف ہوں اور نہ ہی میں نیویارک تباہ کرنا چاہتی ہوں بلکہ میں امن چاہتی ہوں۔ آپ لوگ جاکر امریکہ کے صدر سے کہیں کہ میں طالبان اور پاکستان کے درمیاں ایک گھنٹے کے اندر امن قائم کروا سکتی ہوں۔‘
اس موقع پر جج نے عافیہ صدیقی کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ دخل اندازی سے کارروائي متاثر ہوتی ہے۔ اگرچہ عدالت میں ان کے حاضر رہنے یا نہ رہنے کا انتخاب کرنا ان کا (ڈاکٹر عافیہ کا) بنیادی حق ہے اور ان کی نمائندگي کے لیے ان کے وکیل بھی موجود ہیں لیکن اگر وہ کمرہء عدالت میں اٹھ کر بولیں گي تو وہ انہیں کمرہ عدالت سے متصل کمرے میں ٹیلیوژن پر عدالتی کاروائي کے لیے بھیج دیں گے۔
اسکے جواب میں ڈاکٹر عافیہ نے جج سے کہا کہ حکومت ان کے خلاف ’جھوٹ پر جھوٹ‘ بولے جارہی ہے اور ان کو جیل کے محافط عدالت میں انکے (جج کے) حکم پر زبردستی لائے ہیں اور وہ اس پر احتجاج بھی نہ کریں۔اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مارشل کمرہ عدالت سے متصل کمرے میں لے گئے۔ انہیں کچھ دیر کے بعد عدالت میں واپس لایا گیا۔
جج نے جیوری کے انتخاب کے لیے ممکنہ ارکین سے ان کی تعلیمی سطح، روزگار، ذاتی حالات و مشاغل اور کتاب اور جرائد اور آن لائن یا ہارڈ کاپی میں کتابیں پڑ ھنے کے بارے میں بھی سوالات کیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عافیہ صدیقی کی وکیل لنڈا مرینو نے عدالت کی توجہ نیویارک کے ایک مقامی روزنامے (نیویارک ڈیلی نیوز) میں شائع ہونیوالی گزشتہ دن کی عدالتی کارروائي کی رپورٹنگ کی جانب مبذول کرواتے ہوئے اعتراض اٹھایا کہ مذکورہ اخبار میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو دہشتگردی کا مبینہ ملزم اور ان کا تعلق القاعدہ سے بتایا گیا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جیل سے عدالت میں لانے والے وفاقی مارشل نے خبر کا مکمل متن ڈاکٹر عافیہ کو دینے پر اعتراض کیا جس پر جج نے کہا کہ خبر کا مکمل متن پڑہنے میں کیا مسئلہ ہے؟ تو جیل کے محافظوں نے جج کے پاس جا کر بات چیت کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مذکورہ اخـبار کا فقط وہی تراشہ پڑھنے کو دیا جو ان کے متعلق تھا۔
ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ ان کے متعلق ایسی باتیں کہنے والے لوگ امریکہ کے دوست نہیں بلکہ انڈر کور دشمن ہیں۔
دوران جیوری کے انتخاب کے ایک موقع پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کہا کہ ’جہاں تک ان کے مبینہ طور پر یہودی مخالف ہونے کا تعلق ہے تو وہ بتاتی چلیں کہ انکا گيارہ ستمبر سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ گیارہ ستمبر اسرائيل نے کروایا تھا۔‘اس موقع پر جج نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو عدالت سے متصل کمرے میں کارروائي ٹی وی کے ذریعے دیکھنے کے لیے بھیج دیا۔
عدالت نے عافیہ صدیقی کو انکے مقدمے کے دوران نماز کا وقفہ دینے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
دفاع اور استغاثہ کے وکلاء سے اپنے دفتر میں مشاوت کے بعد جج نے کمرہ عدالت میں جیوری کے انتخاب کا اعلان کیا جو کہ سولہ اراکین پر مشتمل ہوگي۔ ان سولہ اراکین میں نو خواتین اور سات مرد شامل ہیں۔
ڈاکٹر عافیہ کے خلاف افغانستان میں امریکی فوجی اور سرکاری اہلکاروں پر مبینہ حملے کے مقدمے کی نیویارک میں باقاعدہ سماعت انیس جنوری سے شروع ہورہی ہے۔
منتخب سولہ جیوری اراکین پر جج نے واضح کیا کہ مجرم ثابت نہ کیے جانے تک ڈاکٹر عافیہ صدیقی بیگناہ تصور کی جائيں گي۔ نیز یہ بھی کہ فوجداری مقدمے میں بیگناہ ثابت کرنے کی ذمہ داری مدعاعلیہ پر نہیں بلکہ اسے مجرم ثابت کرنے کی تمام ذمہ داری حکومت یا استغاثہ پر ہوتی ہے۔
منتخب جیوری برخواست ہونے پر استغاثہ کے وکیل نے عدالت کے بتایا کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف ایسی دستاویز پیش کرنا چاہتی ہے جو مبینہ طور ان کے اپنے ہاتھ سے تحریر ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل عدالت نے دوران مقدمہ پیش کی جانیوالی گواہی میں سے حکومت کی طرف پیش کی جانیوالے دستاویز پیش کرنے کی اجازت نہیں دی تھی اور فقط وہ دستاویزات گواہی کے طور پر قبول کرنے کی اجازت دی ہے جو مبینہ طور ڈاکٹر عافیہ کے ہاتھ کی تحریر ہوگی۔
عدالت نے فریقین سے اپنے استدلال اور اعتراضات تحریری طور جمعہ کو پیش کرنے کو کہا۔
دوسری جانب ڈاکٹر صدیقی کے دفاع کے وکیل جن کے تمام اخراجات حکومت پاکستان نے ادا کیے ہیں جمعرات کو نیویارک کے قونصل خانے میں پاکستان کے امریکہ میں سفیر حسین حقانی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔





















