ڈاکٹر عافیہ پرصرف بندوق چلانے کا مقدمہ

ڈاکٹر عافیہ صدیقی
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر عافیہ کا اصرار ہے کہ وہ اپنا مقدمہ خود لڑیں گی
    • مصنف, حسن مجتبیٰ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک

افغانستان میں مبینہ طور امریکی سیکیورٹی اہلکاروں پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں امریکہ میں قید پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمے میں استغاثہ یا امریکی حکومت کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ ان کے خلاف مبینہ طور پر سوائے امریکی اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے الزامات کے علاوہ القاعدہ سمیت کسی بھی دہشتگرد گروپ سے تعلق کے الزامات لانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

یہ بات پیر کے روز نیویارک میں ایک امریکی وفاقی عدالت یو ایس کورٹ صدرن ڈسٹرکٹ میں جج رچرڈ ایم بریمن کی عدالت کے سامنے عافیہ صدیقی کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر وکیلِ استغاثہ نے بتائي۔

اس سماعت کے موقعہ پر عافیہ صدیقی بھی موجود تھیں جنہیں نیویارک کے میٹرو پولیٹین ڈٹینشن سینٹر سے امریکی یو ایس مارشلز کے اہلکار کمرہ عدالت میں لے آئے تھے۔

عدالت میں مقدمے کی کارروائي شروع ہوئي تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل دفاع نے عدالت سے کہا کہ ڈاکٹرعافیہ کے خلاف امریکی حکومت نے جو گواہی کے سینکڑوں صفحات مہیا کیے ہیں وہ عافیہ صدیقی کے مقدمے اور ان پر لگائے گئے الزامات سے غیر متعقلہ ہیں۔ اس موقع پر عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی حکومت کی طرف سے استغاثہ کے وکیل نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ امریکی حکومت عافیہ صدیقی کے خلاف ان کی القاعدہ سمیت کسی بھی دہشتگرد گروپ کیساتھ مبینہ وابستگي کے الزمات نہیں لانا چاہتی جبکہ امریکی حکومت ان کے خلاف فقط امریکی اہلکاروں پر مبینہ قاتلانہ حملے کے الزامات میں مقدمہ چلانا چاہتی ہے۔ بہرحال ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دفاع کے وکلا کا عدالت کے سامنے ا ستدلال تھا کہ ڈاکٹرعافیہ کے خلاف مقدمے میں بتائي جانیوالی بندوق پر مبینہ طور ان کی موکلہ (عافیہ صدیقی ) کی انگلیوں کے نشانات نہیں اور نہ ہی مبینہ شواہد کا تعلق ان کے مقدمے سے ہے۔ تاہم عدالت میں موجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی عدالت سے کہتی رہیں کہ وہ اپنے دفاع کے وکلا کو نہیں مانتی اور وہ اپنا دفاع خود کرنا چاہتی ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر عافیہ کے مقدمے کے لیے پاکستان حکومت نے بیس لاکھ ڈالر کی رقم دی ہے

یاد رہے کہ پاکستانی حکومت نے امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ کے مقدمے میں ان کے دفاع کیلیے وکلاء کو بیس لاکھ ڈالر کی رقم ان کی فیس کے طور پر ادا کی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف افغانستان میں امریکی اہلکاروں پر ایک پولیس تھانے میں مبینہ طور پر رائفل سے قاتلانہ حملے کے الزام میں مقدمے کے باقاعد سماعت نیویارک کی وفاقی عدالت یو ایس کورٹ صدرن ڈسٹرکٹ میں ماہ رواں انیس جنوری کو ہوگي۔ جس کے لیے تیرہ جنوری کو عدالت نے جیوری کے اراکین کے انتخابات کی تاریخ مقرر کی ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی پیر کو پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں بڑي تعداد میں خواتین اور مرد موجود تھے۔ عدالت سے باہر بھی جنگ مخالف افراد کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے علاوہ ایک پاکستانی نژاد نوجوان فہد ہاشمی سمیت پاکستان میں بھی لاپتہ افراد کی رہائي کیخلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

پاکستانی نژاد نوجوان فہد ہاشمی کو کچھ عرصہ قبل برطانیہ سے گرفتار کرکے امریکہ لایا گیا تھا۔ نیویارک کی ایک عدالت میں دہشتگردی سے مبینہ تعلق کے الزام میں امریکی حکومت کی طرف سے انہیں مقدمے کا سامنا ہے۔ نیویارک کی جس عدالت میں فہد ہاشمی کیخلاف مقدمہ چلایا جار ہا ہے اسکی عمارت کے باہر ہر ہفتے پیر کی شام کو جنگ مخالف مقامی تھیٹر گروپ سٹریٹ تھیٹر پیش کرتے ہیں۔