عافیہ کیس: جیوری کا انتخاب شروع

- مصنف, حسن مجتبیٰ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
افغانستان میں امریکی سیکیورٹی اہلکاروں پر مببنہ طور پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں امریکہ میں قید پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمہ چلائے جانے کے لیے ایک سو امریکی شہریوں میں سے جیوری کے اراکین کے انتخاب کا عمل جاری ہے جبکہ عدالت نے امریکی حکومت کی طرف سے پیش کی جانیوالی گواہی میں سے صرف ڈاکٹر عافیہ کے ہاتھ کی تحریروں پر مشتمل دستاویزات اور ان کی انگلیوں کے مبینہ نشانات سمیت لیبارٹری کی گواہی پیش کرنے کی اجازت دی ہے۔
عدالت میں موجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنے ممکنہ جیوری اراکین سے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی طرف سے مبینہ طور انہیں بہت سے جھوٹ بتائے جائيں گے اور انہیں بہت سے نا انصافیاں جاننے کا بھی موقع ملے گا۔
بدھ کی صبح نیویارک کی وفاقی عدالت یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ صدرن ڈسٹرکٹ میں جج رچرڈ بریمن کی سربراہی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمے میں جیوری ارکین کے انتخاب کے لیے سماعت شروع ہوئي تو جج نے عدالت میں واضح کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف پیش کیا جانیوالا فوجداری مقدمہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ یا یو ایس اے بنام ڈاکٹر عافیہ صدیقی کہلائے گا جس میں وہ تب تک بیگناہ ہی تصور کی جائيں گي جب تک ان پر مقدمے میں لگائے گئے الزامات ثّابت نہیں ہوتے۔ جج رچرڈ بریمن نے کہا کہ امریکی حکومت کی طرف سے ڈاکٹر عافیہ پر سات الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر انہوں نے اٹھارہ جولائي دو ہزار آٹھ کو افغانستان کے صوبہ غزنی میں افغان نیشنل پولیس کمپاؤنڈ میں امریکی حکومت اور فوج کے اہلکاروں پر ان کی سرکاری رائفل ایم فور سے گولی چلاکر مبینہ قاتلانہ حملہ کیا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی جو بدھ کے روز کمرہ عدالت میں تمام دن موجود رہی تھیں عدالت کو بتایا کہ وہ عدالت میں جیل سے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ زبردستی لائي گئی ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر جج بریمن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’میں نہ ہی کسی دفاع کے وکیل کو اپنا وکیل مانتی ہوں اور نہ ہی ان وکلاء پر اور نہ ہی آّپ پر (جج پر) بھی اعتبار کرتی ہوں۔ میں اپنا دفاع خود کروں گي۔‘
جج نے کہا انہیں ان کے وکیلوں کی ذریعے اپنا موقف بیان کرنے کا یا اگر وہ نہیں چاہتیں توخود اپنی بات کہنے کا موقع دیا جائے گا۔
عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف افغانستان میں مبینہ طور پر امریکی سیکورٹی اور سرکاری اہلکاروں پر ایم فور رائفل سے گولی چلا کر قاتلانہ حملے کے مقدمے میں دونوں فریقین کی طرف سے پیش کی جانیوالی گواہی میں سے امریکی حکومت کی طرف پیش کی جانیوالی گواہی میں سے فقط وہ دستاویزات جو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اپنے ہاتھ کی تحریر پر مبنی ہیں اور ان کی انگلیوں کے نشانات جو مبینہ الہ جرم یعنی ایم فور رائفل پر مبینہ طور پر موجود تھے کی رپورٹ اور اس ضمن میں لیبارٹری کی رپورٹیں گواہی میں پیش کرنے کی اجازت دی جبکہ ڈاکٹر عافیہ کے متعلق اخبارات و جرائد میں شائع ہونیوالے مواد اور امریکی حکومت کے دستاویزات کو پیش کرنے کی امریکی حکومت کی درخواست مسترد کر دی۔
ایک موقع پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دفاع کے ایک وکیل نے اس پر اپنا اعتراض کیا کہ اگرچہ امریکی حکومت ڈاکٹر عافیہ پر ان کے دہشتگرد تنظیموں سے مبینہ تعلق کا الزم سامنے نہیں لا سکی پھر بھی حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ’اینیمی کامبیٹنٹ‘ یا ’دشمن لڑاکاکار‘ قرار دے رہی ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے ممکنہ جیوری اراکین کے انتخاب کے عمل کے دوران تعارف کے طور پر اپنا چہرہ دکھائے جانے پر اعتراض کیا جس پر بعد میں ان کی تصویر کمپیوٹر پر ممکنہ جیوری اراکین کو دکھائي گئي۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف افغانستان کے صوبہ غزنی میں امریکی سیکورٹی اور حکومتی اہلکاروں پر امریکی اہلکاروں کی ہی مبینہ رائفل سےمبینہ قاتلانہ حملے کے سات الزامات میں فوجداری مقدمہ کی باقاعدہ سماعت انیس جنوری سے شروع ہو رہی ہے جس کے لیے بدھ کے روز ممکنہ جیوری اراکین کے انتخاب کا عمل کمرہ عدالت میں ڈاکٹر عافیہ کی موجودگي میں کئي گھنٹے جاری رہا۔
جج بریمن کی سربراہی میں یو ایس ڈسٹرکٹ صدرن کورٹ کے اس کمرہ عدالت میں ایک سو کے قریب مرد و خواتین امریکی شہری جن میں کئي قومیتوں اور نسلوں کے لوگ تھے بلائے گئے تھے۔
ایک سو افراد میں سے ممکنہ جیوری اراکین کے انتخاب کے لیے جج رچرڈ بریمن نے امریکی قوانین کے مطابق پہلے حلف لیا اور پھر استغاثہ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکلاء اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعارف کرایا۔ اپنے تعارف کے موقع پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے ممکنہ جیوری اراکین سے مخاطب ہوتے کہا ’دوران مقدمہ ان کو (جیوری اراکین کو) حکومت کی طرف سے جھوٹ سننے اور اسکی نا انصافیوں سے واقف ہونے کا موقع ملے گا۔‘
ڈاکٹر عافیہ ممکنہ جیوری کے انتخاب کے عمل دوران زیادہ تر میز پر سر رکھے رہیں۔ جبکہ کئي گھنٹوں تک جج نے امریکی قوانین کے مطابق ممکنہ جیوری کے لیے منتخب کیے جانیوالے ایک سو افراد سے متعقلہ سوالات کیے۔
عدالت میں ممکنہ جیوری اراکین کے انتخاب کا عمل جاری رہا جو متوقع طور پر جمعہ تک جاری رہے گا۔
جج رچرڈ بریمن نے جیوری کے ممکنہ اراکین کو بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت انیس جنوری سے ہر روز جاری رہے گي۔ اور جیوری کا کام دونوں فریقوں کی طرف سے گواہیاں اور مقدمہ سننا ہے اور مدعاعیلہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر مقدمے میں جرم کا ارتکاب ثابت ہونا یا نہ ہونا بتانا ہے جبکہ سزا کا تعین عدالت کا ہے۔ جج کے اس بیان پر ایک سو جیوری کے ممکنہ اراکین میں سے ایک خاتون نے اعتراض کیا کہ انہیں سزا کا تعین عدالت کے کرنے پر اعتراض ہے۔
بہرحال جج نے واضح کیا کہ ڈاکٹر عافیہ پر الزامات ثابت کرنے کی تمام ذمہ داری استغاثہ کی ہے اور نیز ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر جرم ثابت نہ ہونے تک انہیں بیگناہ سمجھا جائے گا۔
جج نے ممکنہ جیوری اراکین سے ڈاکٹر عافیہ کے مقدمے کے متعلق مقدمے کے اختتام تک کسی بھی قسم کی خبر میڈیا میں پڑھنے، سننے یا اسکے متعلق فیس بک، ٹوئٹر اور بلاگ پر لکھنے سے اختیاط برتنے کی ہدایت کی۔





















