کابل میں طالبان کا حملہ، ’صورتحال قابو میں‘

بظاہر کئی حملہ آوروں نے شہر میں حکومتی عمارتوں کو مربوط انداز میں نشانہ بنایا ہے
،تصویر کا کیپشنبظاہر کئی حملہ آوروں نے شہر میں حکومتی عمارتوں کو مربوط انداز میں نشانہ بنایا ہے

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان شدت پسندوں نے دھاوا بول دیا، شہر کے مرکز میں دھماکے ہوئے اور شدت پسندوں اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں۔

جھڑپوں کا آغاز سیرینا ہوٹل اور صدارتی محل کے قریب ہوا جو آخری اطلاعات تک جاری تھا۔ افغان اہلکاروں کے مطابق اب تک پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

طالبان ویب سائٹ پر ایک بیان میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ اس حملے میں خاص طور سے سیرینا ہوٹل اور سرکاری عماتوں کو نشانہ بنانا مقصود تھا۔

وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کابل حملے میں سات خود کش حملہ آور شامل دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے چار نے سیرینا ہوٹل کے قریب ایک کاروباری مرکز اور صدارتی محل پر حملہ کیا۔تین شدت پسندوں نے چار سو میٹر دور ایک سینما گھر پر حملہ کیا۔

ترجمان نے کہا کہ شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں اور جھڑپیں رک گئی ہیں۔

امریکہ نے کابل حملے کی مذمت کی ہے اور امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ طالبان کا حملہ واضح طور پر افغان حکومت اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ طالبان حملہ وحشیانہ ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ کابل میں سکیورٹی کی صورتِ حال اب قابو میں ہے۔ ’میں کابل کے رہائشیوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ صورتِ حال کنٹرول میں ہے۔‘

.یہ جھڑپیں شہر کے اس علاقے میں ہوئی ہیں جہاں صدارتی محل، سنٹرل بینک اور وزارتِ انصاف واقع ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس لڑائی میں کم از کم ایک عمارت کو آگ لگ گئی۔

طالبان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس حملے میں ملوث ہیں۔طالبان کہتے ہیں کہ اس حملے میں ان کے بیس لوگ شامل تھے۔

اس حملے سے قبل تین دھماکے ہوئے۔ کئی حملہ آوروں نے ایک منظم طریقے سے حکومتی عمارتوں اور شہر کے مرکز پر حملہ کیا۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق انہوں نے وزارت کی عمارتوں کے نزدیک سلسلہ وار دھماکوں کے بعد گولیوں کی آوازیں بھی سنیں۔ افغان سکیورٹی فورسز نے قریبی ہوٹل کی چھت سے حملہ آوروں پر فائرنگ کی جو آس پاس کی عمارتوں پر موجود تھے۔

حالات کو دیکھتے ہوئے شہر کے مرکز ميں واقع سڑکوں کے ساتھ ساتھ ہوٹل اور سرکاری عمارتوں کو بند کر دیا گیا۔

نیٹو کے مطابق اتحادی فوج افغان فوج کی مدد کر رہی تھیں۔

افغانستان کے حکام کے مطابق مرکزی کابل میں ہونے والی جھڑپ میں متعدد خودکش حملہ آور ملوث ہیں۔ بظاہر کئی حملہ آوروں نے شہر میں حکومتی عمارتوں کو مربوط انداز میں نشانہ بنایا ہے۔

افغانستان میں وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کئی باغی ایک نجی عمارت میں گھس گئے جو جھڑپ کا مرکز بن گئی۔