پاکستان افغانستان کے لیے فیصلہ کن سال

افغانستان میں امریکی فوجی(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشننئے امریکی فوجیوں کی آمد کے بعد لڑائی تیز ہو سکتی ہے

مہمان کالم نویس احمد رشید کہتے ہیں کہ دو ہزار دس میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک پاکستان اور افغانستان کے لیے سب سے مشکل صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔

نئے سال کے آغاز پر جنوبی ایشیا کے لوگ سانس روکے بیٹھے ہوں گے۔ اگر پاک افغان قومیں معمولی سیاسی استحکام بھی نہ حاصل کر سکیں اور شدت پسندی کے خلاف اور اقتصادی میدان میں ناکام رہیں تو دنیا کو بڑھتی ہوئی اسلامی انتہاپسندی، پاکستان کے جوہری اثاثوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات اور امریکہ کو افغانستان سے انخلاء کی صورت میں اپنی ساکھ اور طاقت کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دینا پڑے گا۔

دونوں ممالک کو درپیش مشکلات شدید اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔بنیادی بات دیکھنے والی یہ ہے کہ آیا دونوں القاعدہ اور طالبان کے خطرے سے نمٹنے میں مغربی اتحادیوں کا ساتھ دے سکتے ہیں یا نہیں۔

اس چیز کا اپنا انحصار اگلے اٹھارہ ماہ میں امریکہ اور نیٹو کی نئی حکمت عملی کی کامیابی پر ہے، جس دوران امریکہ کے صدر اوباما نے افغانستان کے اقتصادی اور سیاسی ادارے مستحکم کرنے کا عزم کیا ہے اور کہا ہے کہ جولائی سن دو ہزار گیارہ سے افغانستان میں سکیورٹی کا انتظام افغانوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔

اس کا دارومدار اس پر ہے کہ مغرب کو اسلام آباد اور کابل میں مؤثر حکومتوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاحال اس کی زیادہ امید نظر نہیں آتی۔

افغانستان میں حامد کرزئی انتہائی متنازعہ انتخاب کے بعد صدر منتخب ہوئے ہیں جس سے داخلی اور خارجی سطح پر ان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ اور افغانستان کی فوج ایسا نہیں لگتا کہ سکیورٹی کی بھاری ذمہ داری ابھی اٹھا پائے گی۔

نئے سال میں پارلیمانی انتخاب کے سوال پر مغرب اور افغانوں کے درمیان نئی سیاسی بحث شروع ہو جائے گی۔افغانستان کی فوج میں شرح خواندگی بہت کم ہے اور اسے پشتون پٹی سے بہت کم ریکروٹ مل رہے ہیں جو کہ ملک کے جنوب اور مشرق میں طالبان کے زیر اثر علاقوں میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

سن دو ہزار دس کے وسط میں جب مغربی افواج اور طالبان کے درمیان غالباً فیصلہ کن لڑائی لڑی جائے گی نوکریاں فراہم کرنے اور اقتصادی بہتری جیسے دوسرے بنیادی کاموں میں پیشرفت مشکل ہو جائے گی۔ یہ کام اس وقت اور بھی اہمیت اختیار کر لیں گے۔

طالبان کی موسم گرما کے لیے حکمت عملی یہ ہو گی کہ وہ جنوبی اور مشرقی علاقوں میں کارروائی بند کر دیں گے جہاں تیس ہزار غیر ملکی فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں۔

طالبان ملک کے شمال اور مغرب میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کریں گے جہاں وہ ان یورپی ممالک کی افواج کو نشانہ بنائیں گے جنہیں پہلے ہی اپنے ممالک میں افغان کارروائی سے دستبردار ہونے کے دباؤ کا سامنا ہے۔

طالبان امریکی افواج کے خلاف لڑائی کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کریں گے اور ساتھ وسطی ایشیا میں بھی عدم استحکام پیدا کریں گے۔

پاکستانی فوج جو انڈیا اور افغانستان کے بارے میں ملک کی پالیسی کنٹرول کرتی ہے ملک کے اندر افغان طالبان کی پناگاہیں ختم کرنے پر تیار نظر نہیں آتی۔

پاکستان کی طرف سے ان پناگاہوں کے خاتمے کے بغیر یا افغان طالبان کی قیادت کو کابل سے مذاکرات پر تیار کیے بغیر امریکہ کی افغانستان میں کامیابی مشکل ہے۔

پاکستان کو خود سہ رخی بحران کا سامنا ہے۔ ملک کے صدر آصف علی زرداری کو عنقریب مستعفی ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے جس سے سیاسی بحران پیدا ہو جائے گا۔

ملک میں اقتصادی بحران بیروزگار نوجوانوں کی ایک فوج تیار کر رہا ہے جو انتہاپسندی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایک اور مسئلہ فوج کی ملک میں طالبان سے نمٹنے میں ناکامی ہے۔

حالات میں بہتری کا دارومدار فوج اور سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت اور افغانستان میں مغربی قوتوں کی حمایت میں ہے۔ تاہم فی الحال ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔

فوج کو افغانستان سے سن دو ہزار گیارہ میں امریکی فوج کے انخلاء کے بعد سیاسی خلاء پیدا ہونے کا خطرہ نظر آتا ہے۔ خطے کے دوسرے ممالک انڈیا، روس، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں بھی انہی خطوط پر سوچتے ہوئے طالبان کی مخالفت کے لیے دھڑے تیار کر سکتی ہیں۔یہ انیس سو نوّے جیسی خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔

پاکستان کی ملک کے اندر طالبان کے خلاف کارروائی کامیابی سے جاری ہے لیکن یہ اس وقت تک ناکافی ہے جب تک فوج افغان طالبان یا پنجاب میں شدت پسند گروہوں کے خلاف سیاسی یا عسکری حکمت عملی نہیں بناتی۔

اس بحث سے انڈیا کو باہر نہیں رکھا جا سکتا۔ انڈیا کو خدشہ ہے کہ پنجاب کی کوئی تنظیم ممبئی جیسا حملہ دوبارہ کر سکتی ہے اور اس نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انیس سو نوّے کی دہائی میں کشمیر میں کام کرنے والے تمام شدت پسند گروہوں کو ختم کرے۔

اسلام آباد اس وقت تک ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں جب تک انڈیا دوبارہ مذاکرت کی میز پر نہیں آتا۔ امریکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذاکرات شروع کروانے میں ناکام رہا ہے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا پاکستان افغانستان میں اس کی بات نہیں مانے گا۔

واشنگٹن کی طرف سے پاکستان کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کے امدادی پیکج کے باوجود وہاں امریکہ کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں امن امان کی خراب صورتحال اور انڈیا اور امریکہ کی مخالفت، جس کو ہوا دینے میں کسی حد تک فوج کا بھی ہاتھ ہے، کی وجہ سے امریکی امداد کا فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔

پاکستان اور افغانستان سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے اوراس میں اوباما کے نئے پروگرام کے بعد تیزی آئی ہے۔ افغانستان میں استحکام اور پاکستان میں اقتصادی ترقی کی عدم موجودگی میں دنیا میں شدت پسندی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔