’عراق پر حملے کے فیصلے پر کوئی ملال نہیں‘

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے عراق پر حملے میں شمولیت کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اس فیصلے پر کوئی تاصف یا افسوس نہیں ہے اور اگر انھیں یہ فیصلہ دوبارہ کرنا پڑے تو وہ پھر یہی فیصلہ کریں گے۔
لندن میں عراق جنگ کے بارے میں انکوائری کمیشن کے سامنے اپنی پیشی کے دوران ٹونی بلیئر نے کہا کہ دنیا صدام حسین کے بغیر زیادہ محفوظ ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدام حسین ایک ’بلا‘ تھا جسے ہٹانا ضروری تھا۔
ٹونی بلیئر کے لارڈ چلکوٹ انکوئری کمیشن کے سامنے پیشی کے موقع پر عراق جنگ میں مارے جانے والے برطانوی فوجیوں کے رشتہ داروں، جنگ مخالف گروہوں اور سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد نے ٹونی بلیئر کے خلاف مظاہرہ کیا اور نعرے لگائے۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن میں سے کئی ایک پر ٹونی بلیئر پر جنگی جرائم پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ٹونی بلیئر اپنا بیان ریکارڈ کرا کے جب جا رہے تھے تو اس وقت دو خواتین نے ان پر آوازیں کسیں اور کہا ’تم جھوٹے ہو‘ اور ’تم قاتل ہو‘۔
انکوائری کمیٹی کے سربراہ سر جان چلکٹ نے ٹونی بلیئر سے آخر میں سوال کیا کہ کیا انھیں اپنے فیصلے پر کوئی افسوس ہے تو انھوں نے کہا کہ ان کے فیصلے سے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا اور اس پر انھوں نے ’سوری‘ کا لفظ استعمال کیا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ صدام حسین کو ہٹانے کا ان کا فیصلہ درست تھا۔
انھوں نے کہا کہ اگر صدام حسین کو نہ ہٹایا جاتا تو آج ایران کے ساتھ صدام حسین بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہوتا اور دہشت گرد گروہوں کی مدد کر رہا ہوتا۔
انھوں نے کہا کہ مارچ سن دو ہزار تین سے دو ہزار دس کی صورت حال مختلف ہے اور اس وقت کے سوال آج پوچھے جانا ٹھیک نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر صدام حسین کو چھوڑ دیا جاتا تو آج برطانوی حکومت اور عوام کے اعصاب کمزور پڑ جاتے۔
ٹونی بلیئر نے ایران کے بارے میں بھی سخت رویہ اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور ایران پر الزام لگایا کہ عراق پر حملے کے بعد اس نے القاعدہ کے ساتھ ملکر عراق میں عدم استحکام پھیلایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ٹونی بلیئر سے انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے سابق سرکاری اہلکاروں نے اس طرف اشارے کیئے تھے کہ ٹونی بلیئر نے سن دو ہزار دو میں صدر بش سے ٹیکساس میں ملاقات کے دوران انھیں برطانوی حمایت کا یقین دلایا تھا۔
ٹونی بلیئر نے انکوائری کے سامنے اپنے بیان میں ان الزامات کی تردید کی کہ انہوں نے عراق پر حملے سے ایک سال قبل ہی اس وقت کے امریکی صدر جارج بش سے خفیہ طور پر اس حملے میں برطانیہ کی شمولیت کے بارے میں معاہدہ کر لیا تھا۔
تاہم سابق برطانوی صدر نے اپنے بیان میں اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ حملے کے بعد کے حالات کا پہلے سے ادراک نہیں کر سکے جس سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے۔
انھوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ برطانوی دستاویزات میں اس دعوی کی واضحات کی جانی چاہیے تھی کہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار پینتالیس منٹ میں استعمال کے قبل بنائِے جا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا یہ دعوی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں نہیں بلکے میدان جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے بارے میں تھا۔
ٹونی بلیئر نے جنگ کے قانونی جواز کا دفاع کیا اور اس تاثر کی تردید کی کہ انھوں نے اپنی حکومت کے قانونی مشیروں پر جنگ کو جائز قرار دینے کے بارے میں دباؤ ڈالا۔





















