عراق حملہ: ’کابینہ سے غلط بیانی‘

کلیئر شارٹ

برطانیہ میں جاری عوامی انکوائری میں ایک سابق وزیر نے کہا ہے کہ عراق پر حملے کے لیے کابینہ سے غلط بیانی کی گئی تھی۔

برطانیہ کی سابق بین الاقوامی ترقی کی وزیر کلیئر شارٹ نے انکوائری کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ان کے ’ساتھیوں‘ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جنگ ضروری ہے۔

کلیئر شارٹ نے مارچ دو ہزار تین کے عراق پر حملے کے بعد کابینہ احتجاجاً الگ ہو گئی تھیں کہ عراق پر حملے کے بعد کی تیاری نہیں کی گئی تھی۔

انہوں نے انکوائری کو اپنے بیان میں بتایا کہ کابینہ فیصلہ ساز ادارہ نہیں تھا۔ انہوں نے پارلیمان کو ’ربر سٹیمپ‘ ادارہ قرار دیا۔ان کا بیان تین گھنٹے جاری رہا جس کے بعد وہاں موجود لوگوں نے تالیاں بجائیں۔

برطانیہ کے سابق اٹارنی جنرل نے ٹونی بلیئر کو ابتدائی طور پر کہا تھا کہ اقوام متحدہ سے ایک مزید قرارداد کے بغیر عراق پر حملہ غیر قانونی ہوگا۔ لیکن انہوں نے ایک ماہ کےاندر امریکی حکومت کے وکلاء اور اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر سے بات کے بعد اپنی رائے تبدیل کر دی تھی۔

جنگ سے تین روز قبل سترہ مارچ دو ہزار تین کو کابینہ کے سامنے ایک دو ٹوک بیان رکھا گیا تھا۔کلیئر شارٹ نے کہا کہ اس طرح کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا تھا کہ انہیں حملے کی قانونی حیثیت کے بارے میں پہلے کوئی شک تھا۔

انہوں نے کہا کہ حملے سے پہلے کابینہ کے اجلاس میں اٹارنی جنرل کے قانونی مشورے کے بارے میں بحث روک دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی تھی کہ اٹارنی جنرل کا مشورہ اتنی تاخیر سے کیوں آیا ہے لیکن ان کے رفقاء نے انہیں خاموش کروا دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سے دوسری قرارداد منظور کروانے میں ناکامی کے بعد کہا گیا تھا کہ فرانس نے اسے ویٹو کر دیا تھا جو کہ غلط بات تھی۔