بلیئر کی عراق انکوائری کے سامنے پیشی

برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر عراق جنگ کے بارے میں قائم کی گئی انکوائری کے سامنے پیش ہو کر اپنے برطانیہ کو عراق پر امریکہ حملے میں شامل کرنے کے فیصلے کا دفاع کر رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کو اس انکوئری کے سامنے سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے سے قبل اور اس کے بعد کے حالات کے بارے میں تقریباً چھ گھنٹے تک سوالات کا سامنا کرنے پڑے گا۔
<link type="page"><caption> ٹونی بلیئر کا بیان: لائیو ویڈیو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2010/01/100129_blair_video_live_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
اس انکوائری میں ان متنازع حکومتی دستاویزات کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا جن میں عراق پر حملے کا جواز مہیا کیا گیا تھا۔
بی بی سی کے سیاسی امور کے نامہ نگار نک رابنسن کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ سابق وزیر اعظم انکوائری کے سامنے اپنے بیان میں کہیں گے کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانے کی نیت اور صلاحیت رکھتے تھے۔
نک رابنسن کے مطابق ٹونی بلیئر انکوائری کے سامنے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہیں گے کہ عراق پر فوجی کشی کے بعد ہونے والی خون ریزی کے باوجود صدام حسین کا اقتدار سے علیحدہ کیا جانا عراق اور دنیا کے لیے کوئی مہنگا سودا نہیں۔
ٹونی بلیئر کی پیشی کے موقع پر عراق جنگ میں ہلاک ہونے والے ایک سو اناسی برطانوی فوجیوں کے رشتہ دار اور خاندان والے جنگ مخالف گروپ کی طرف سے کیے جانے والے مظاہرے میں شرکت کر رہے ہیں۔
حزب اختلاف کی ایک جماعت لبرل ڈیموکریٹ کے راہنما نک کلیگ کا کہنا ہےکہ ہزاروں برطانوی آج بھی اس سوال کے جواب کی تلاش میں ہیں کہ برطانیہ نے اس غیر قانونی جنگ میں کیوں شرکت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن جنھیں خود بھی اس انکوائری کے سامنے پیش ہونا ہے کا کہنا تھا کہ ٹونی بلیئر کے انکوئری کے سامنے پیش ہونے سے انھیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ایک .مقامی ٹی وی چینل سے انٹرویو میں گورڈن براؤن نے کہا کہ ٹونی بلیئر اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا انھیں یقین ہے کہ ٹونی بلیئر سے جو بھی سوال پوچھیں جائیں گے وہ ان کا خوش اسلوبی سے جواب دیں گے۔
عراق کے بارے میں قائم چلکوٹ انکوائری اس سے قبل کئی اعلی سرکاری افسران سے سوالات پوچھ چکی ہے۔ٹونی بلئیر سے متوقع طور پر یہ بھی پوچھا جائے گا کہ کسی مرحلے پر انھوں نے امریکی صدر جارج بش سے اس حملے میں شامل ہونے کا وعدہ کیا تھا۔
اس وقت کے اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ جن کے مشورے کے بعد حکومت نے عراق پر حملے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا انکوائری کے سامنے پہلے ہی یہ بیان دے چکے ہیں کہ وہ ابتداء میں اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اقوام متحدہ سے طاقت کے استعمال کی اجازت لینا ہو گی اور انھوں نے عراق پر حملے سے صرف ایک مہینے قبل اپنے رائے تبدیل کی تھی۔
انھوں نے انکوائری کے سامنے کہا تھا کہ انھوں نے ٹونی بلیئر کو خبردار کیا تھا عراق میں حکومت کی تبدیلی کے لیے طاقت کا استعمال غیر قانونی ہو گا۔





















