افغانستان میں غربت اور بھوک کی مار

یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ آخراللہ گل اتنی برہم کیوں ہیں۔ ان کی دو برس کی بیٹی پیٹ بھر کھانا نہ ملنے کے سبب ان کی گود میں ہی روتی رہتی ہے۔
چاریکار ہسپتال کے وارڈ میں ایک بچہ ایک مریض کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے جس کا جسم کم غذائیت کے سبب ٹوٹ چکا ہے اور تمام ہڈیاں جسم سے نمایاں ہیں۔
چھہ برس قبل اللہ گل جب ایران کے ایک پناہ گزین کیمپ سے واپس آئیں تو انہیں ایک نئی اور بہتر زندگی کی امید تھی۔ طالبان کی شکست کے ساتھ ہی سکیورٹی واپس آگئی تھی اور اربوں ڈالر عالمی امداد بھی آنی شروع ہوئی تھی۔
لیکن اللہ گل کہتی ہیں ’ہمارے لیے بہت مشکلات رہی ہیں۔ مہینوں ہم اپنے بچوں کے لیےگوشت تک نہیں خرید سکے، یہ دیکھنا ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ انہیں کبھی امید نہیں تھی کہ ان کی یہ حالت ہوگي۔ میاں بیوی کھیت میں بطور مزدور کام کرتے ہیں جس میں سے انہیں تھوڑا غلہ ملتا ہے۔ لیکن وہ اتنا نہیں کما پاتے کہ وہ اپنے خاندان کو کھانا کھلا سکیں۔
ڈاکٹر اسلم فواد بھی بہت مایوس ہیں۔ ہر دن وہ کم غذائیت کا شکار مریضوں کے وارڈ میں یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ ان کے ہسپتال میں ضلع کے کونے کونے سے مریض داخل ہورہے ہیں۔

حالانکہ ان کا ضلع بڑا ہی زرخیز مانا جاتا ہے لیکن غربت اتنی شدید ہے کہ بہت سے کسان اپنے بچوں کو پیٹ بھر کھانا نہیں کھلا سکتے۔ ڈاکٹر فواد بڑی کوشش کرتے ہیں لیکن علاقہ کی معاشی حالت اتنی بری ہے کہ مریض آتے ہی رہتے ہیں۔
بقول ان کے ’افغانستان میں کم غذائیت کی صورت حال، خاص طور پر پروان صوبہ میں بہت بری ہے۔ اس کی وجہ برسوں سے جاری جنگ ہے۔ ہمارا بنیادی دھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور بے روز گاری بڑھ چکی ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چالیس فیصد بے روزگاری ہے لیکن حقیقت میں یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اور پاروان صوبے میں جن کے پاس کام ہے اس میں سے پینتالیس فیصد لوگ یومیہ ایک ڈالر سے بھی کم کماتے ہیں۔ اور افغانستان میں تقریبا پینتالیس فیصد بچے کم غذائیت کا شکار ہیں۔
سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی درجہ بندی کی فہرست میں افغانستان انسانی طرقی میں ایک سو اسّی میں سے ایک اناسیویں نمبر پر ہے۔ جبکہ طالبان کے دور میں یہ ایک سو سترہ نمبر پر تھا۔
کابل یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر سید مسعود کہتے ہیں کہ اس گراوٹ کی وجہ حکومت سے لاتعلقی اور طالبان کے لیے بڑھتی حمایت ہے۔ ’امداد کے فائدے دوستوں کو پہنچنے کے بجائے دشمنوں کو پہنچتے ہیں۔ پیسہ وہاں خرچ کرنا چاہیے جہاں لوگ جمہوری عمل کے حامی ہوں اور حکومت کے لیے کام کرنا چاہتے ہوں۔ لیکن اس کے بجائے دشمن ہی اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘
مسعود کے مطابق ہمیں پیسہ ان صوبوں میں خرچ کرکے ایک مثال قائم کرنی چاہیے جو ترقی کی راہ پر ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں نے امداد کی وہ پالیسی اپنا رکھی ہے جس کے نتائج منفی مرتب ہوتے ہیں۔ ’انہوں نے امداد کو بھی سیاسی رنگ دیے دیاہے۔ وہ پیسہ سیاسی تبدیلی اور دشمنوں کو خوش کرنے کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔‘
پاروان صوبہ لوگوں کو جس طرح نظرانداز کیا گیا ہے اس سے لوگوں میں حکومت کے خلاف ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ عبداللہ خان ٹریکٹر چلاتے ہیں لیکن اور پیٹ بھر کھانے کے لیے ترس رہے ہیں۔ ایک ماہ قبل ان کی بیٹی رابعہ کو بھی کم غذایت کے لیے ہسپتال میں بھرتی کرایا گيا تھا۔
ڈاکٹر فواد کی مدد سے رابعہ کی حالت بہتر ہورہی ہے لیکن عبداللہ کی ایک اور بیٹی پیدا ہوئی ہے جس کی خوراک کا مسئلہ انہیں ستانے لگا ہے۔
عبداللہ کہتے ہیں ’ہم جیسے غریبوں کو مدد پہنچنے کے بجائے امیروں اور بدعنوان لوگوں کو ملتی ہے۔‘
افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ عبداللہ جیسے لوگوں کا اعتماد بحال کرے۔






















