افغانستان میں فوج رکھنے پر حکومت گر گئی

ہالینڈ میں افغانستان میں ہالینڈ کے فوجیوں کو واپس بلانے یا ان کی تعیناتی کی مدت میں اضافہ کرنے کے مسئلہ پر حکومت میں شامل دو بڑی جماعتوں میں اختلاف کی وجہ سے حکومتی اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔
ہالینڈ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومت میں شامل یہ دو بڑی جماعتیں اس مسئلہ پر پائے جانے والے اختلاف کو دور نہیں کر سکیں اور حکومت سے علیحدہ ہو گئی ہیں۔
ہالینڈ نے اس سال افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا جبکہ نیٹو کی طرف سے درخواست کی گئی تھی کہ ہالینڈ اپنی فوجوں کی افغانستان میں تعیناتی کو کم از کم اگست دو ہزار گیارہ تک بڑھا دے۔
کرسچن ڈیموکریٹ جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم ژان پیٹر بلکندے نیٹو کی طرف سے کی گئی اس درخواست پر غور کر رہے تھے کہ ہالینڈ کے فوجیوں کی افغانستان کی تعیناتی کی مدت کو بڑھا دیا جائے۔تاہم حکومت میں شامل لیبر پارٹی نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔
حکومت ختم ہونے کا اعلان گزشتہ رات سولہ گھنٹے تک جاری رہنے والے کابینہ کے اجلاس کے بعد کیا گیا جس میں دونوں جماعتیں اس مسئلہ پر متفق نہیں ہو سکیں۔
ہالینڈ کے تقریباً دو ہزار فوجی افغانستان کے جنوبی صوبے اردگان میں سن دو ہزار چھ سے تعینات ہیں جن میں اب تک بارہ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہالینڈ کی فوجیوں کو اس سال کے آخر میں افغانستان سے واپس بلایا جانا ہے۔ ہالینڈ کی پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں ایک قرار داد بھی منظور کر رکھی ہے لیکن حکومت نے اس قرار داد کی توثیق نہیں کی ہے۔ لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہالینڈ کے وزیر خزانہ وتر بوس نے وزیر اعظم سے اس قرار داد کی فوری توثیق کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ان فوجیوں کی افغانستان سے واپس پہلے ہی دو مرتبہ موخر کی جا چکی ہے۔ ان فوجیوں کو سن دو ہزار آٹھ میں واپس بلایا جانا تھا لیکن نیٹو میں شامل کسی دوسرے ملک کی طرف سے ان کے متبادل دستے فراہم کرنے سے انکار کے بعد ان کی افغانستان میں تعیناتی کی مدت میں اضافہ کر دیا گیا۔
افغانستان میں جون سن دو ہزار نو میں بیالیس ملکوں کے اکسٹھ ہزار فوجی تعینات تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















