افغان نوجوان کے سفر کی داستان

احمد نے پہلے بار انگلینڈ اس وقت دیکھا جب انہوں نے خود کو ترپال کے نیچے سے نکالا جس کے نیچے انہیں چھپا کر لایا گیا تھا۔ وہ ترپال کے نیچے سے نکلے اور خود کو سمگل کر کے لانے والے ٹرک سے چھلانگ لگا دی۔ اب وہ لوٹن کی ایک سڑک پر تھے۔

یہ دو ہزار نو کا آغاز تھا۔ دن اور تاریخ انہیں صحیح سے یاد نہیں صرف اتنا اندازہ ہے کہ کوئی سال سوا سال پہلے وہ شمالی افغانستان سے چلے تھے۔

یہ اندازہ بھی احمد کو اس لیے ہے کہ سفر کے ابتدائی دنوں میں جب انہیں لے جانے والے افغانستان سے ایران کے ریگستان میں داخل ہوئے تو گرمیوں کا موسم تھا اور جب وہ شمالی یورپ کے قریب پہنچے تو ہڈیوں کو منجمد کرتی ہوئی سردی کا سامنا تھا۔

اس دوران انہوں نے کتنے دن سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے گزارے اور کتنے دن آڑے ٹیڑھے کچے رستوں پر سفر کیا، اس بارے میں وہ کچھ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتے۔

اس سفر کے دورن کتنی ہی بار انہیں سرچ لائٹوں سے بچنے کے لیے ٹرکوں اور گاڑیوں میں گھنٹوں ساکت اور بے حرکت دبکے پڑے رہنا پڑا اور متعدد بار تعاقب کرتی گاڑیوں سے بچنے کے لیے دوڑ بھاگ کرنی پڑی۔

اس دوران انہیں کشتیوں میں بھی سفر کرنا پڑا اور پولیس کی حراست بھی دیکھنا پڑی۔

ترک وطن کر کے پناہ کی تلاش میں اس طرح کی نقل مکانی کے سفر کرنے والوں کے مسائل پر مہارت رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اب جو اس نوع کی نقلِ مکانی ہو رہی ہے اس کا خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں اکثریت ایسے نوجوانوں کی ہے جو لڑکپن کی عمر میں ہیں اور جو اپنے بڑوں کے بغیر یہ سفر کر رہے ہیں اور یورپ آ رہے ہیں۔

اس سفر میں ان نوجوانوں کو ایسے تجربات اور مشاہدوں سے گزرنا پڑتا ہے جو انہیں وقت سے پہلے بڑا کر دیتے ہیں لیکن احمد جب انگلینڈ پہنچے تو ان کا ردِ عمل بچوں جیسا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’شدید سردی تھی۔ ہر طرف برف ہی برف پھیلی تھی، پھر بھی بہت سے بچے تھے جو برف پر کھیل رہے تھےمیں ان کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا تو ان میں سے ایک نے برف کا ایک گولہ میری طرف بھی پھینکا۔ جواباً میں نے بھی ایک گولہ بنا کر ان کی طرف پھینکا اور اس طرح میں ان کے کھیل میں شریک ہوگیا اور خاصی دیر تک ان کے ساتھ کھیلتا رہا‘۔

ایک طویل سفر تنہا طے کرنے والے احمد کا کہنا ہے کہ وہ اب سولہ کے ہو چکے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے شمالی افغان صوبہ فریاب اس وقت چھوڑا جب شدت پسندوں نے انہیں اس گاڑی میں دھماکہ خیز مادہ لگانے کے لیے کہا جو حکام اس گیراج میں لائے تھے جہاں وہ کام کرتے تھے۔ شدت پسندوں نے انہیں دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے دھماکہ خیز مادہ نہ لگایا تو وہ انہیں مار ڈالیں گے۔

اس واقعے سے پہلے انہیں اُس تشدد سے کوئی شکایت نہیں تھی جو اب ان کے ملک میں ہر طرف پھیلا ہوا ہے یہی وجہ تھی کہ جب ان کے والدین یہ دیکھا کہ حالات بہت خراب ہو رہے ہیں تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ احمد کو ملک سے باہر بھیج دیا جائے۔

احمد جن کا اصل نام ان کی شناخت چھپانے کے لیے تبدیل کر دیا گیا ہے، کا کہنا ہے کہ انہیں سیاسی پناہ نہیں دی گئی لیکن انہیں برطانیہ میں رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے جیسا کہ طریقے کے مطابق بڑوں کے بغیر آنے والے اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے عام طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔

احمد افغانستان چھوڑنے کے جو سبب بتاتے ہیں ان کی تصدیق نہیں کی جا سکی لیکن انہوں نے بی بی سی کو اپنے سفر کی کہانی پوری تفصیل سے سنائی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سفر کا انتظام ان کے ایک چچا نے کیا تھا اور ترک وطن کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سفر پر دس ہزار ڈالر کے لگ بھگ اخراجات آتے ہیں۔

احمد کا کہنا ہے کہ شروع میں تو انہیں بتایا ہی نہیں گیا کہ انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے اور یہ کہ اب ان کے لیے اپنے گھر والوں سے ملنا ممکن نہیں ہو گا۔ یہ مرحلہ تب آیا جب انہیں سفر کرتے ہوئے کئی دن گزر چکے تھے اور انہیں یہ اندازہ ہوا تھا کہ وہ اپنے ملک کی سرحد عبور کر کے ایران میں داخل ہو چکے ہیں۔

خود ان کے الفاظ میں ’وہ سب کو مختلف گاڑیوں میں دھکیل رہے تھے۔ وہ بہت جلدی میں تھے اور کوئی ایسی زبان بول رہے تھے جو مجھے نہیں آتی تھی‘۔

’تب میں نے چاہا کہ میں وہاں سے بھاگ جاؤں۔ میں رونے لگا۔ مجھے ماں باپ یاد آ رہے تھے۔ میں نے چلتے ہوئے انہیں خدا حافظ بھی نہیں کہا تھا لیکن انھوں نے مجھے ایک گاڑی میں دھکیل دیا اور سفر شروع ہو گیا۔‘

’سفر کئی دن جاری رہا۔ شروع میں تو ہم ایک ٹرک کے کھلے ہوئے حصے پر ٹھونسے گئے اور پھر ہمیں ایک پک اپ پر لاد دیا گیا۔ ہم پچیس کے قریب تھے اور ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے تھے اور ہم سے کچھ تو پک اپ کے جنگلے سے لٹکے تھے۔‘

’گرمی اس قدر شدید تھی کہ ہم میں سی کئی بے ہوش ہو گئے۔ نہ تو پینے کا ٹھنڈا پانی تھا اور نہ ہی انہوں نے پک اپ کو اس وقت روکا جب کچھ لڑکے بنیادی ضرورتوں سے فارغ ہونا چاہتے تھے۔‘

ہم سب افغان تھے اور ملک کے مختلف حصوں سے آئے تھے۔ ایران سے جب گاڑی ترکی میں داخل ہوئی تو سمگلروں نے کہا کہ سرحد کی نگرانی کے لیے لگی سرچ لائٹوں سے بچنے کے لیے سب لوگ نکل کر زمیں پر لیٹ جائیں۔

اس کے بعد کا سفر بڑی تیز رفتاری سے ہوا ۔ کبھی کاروں میں اور کبھی بسوں پر۔ لیکن اس کے باوجود استنبول میں قیام بہت اچھا رہا۔ ہمیں ایک افغان کے پاس ٹھہرایا گیا تھا، جو لوگوں کو اس طرح لے جانے والوں کے کاروبار کا حصہ تھا اور میری طرح افغانستان کے ازبک بولنے والے علاقے کا رہنے والا تھا۔

یہیں احمد کو پہلی بار علم ہوا کہ انہیں انگلینڈ لے جایا جا رہا ہے۔ استنبول میں ہی انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ استنبول سے یونان جانے کے دو راستے ہیں: بحری راستہ اور بری راستہ۔

احمد کو کیونکہ سمندر سے ڈر لگتا تھا اور انہوں نے سمندر پہلی بار استنبول ہی میں دیکھا تھا۔ اس لیے انہوں نے زمینی راستے سے لے جائے جانے کا انتخاب کیا۔

لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے زیادہ غیر محفوظ راستہ چنا ہے۔ انہیں کار سے لے جانے والا بھی وہی ازبک افغان تھا۔ جب وہ سرحد کے قریب پہنچے تو انہیں سرحدی چوکی پر چیکنگ سے بچنے کے لیے گاڑی کو کھیتوں میں دوڑانا پڑا اور اس حال میں کہ پولیس کار ان کا تعاقب کر رہی تھی۔

اس کے باوجود انہیں سرحد عبور کرنے کے لیے پانی میں اترنا پڑا۔ احمد کے ساتھ دو افغان لڑکے اور تھے۔ ایک موقع پر تو احمد اس وقت ڈوبتے ڈوبتے بچا جب ان کے ایک ساتھی نے ان کے سامان کا تھیلا دور کنارے پر پھینکنے کی کوشش میں انہیں پانی میں دبا دیا۔

ان کے سفر کا اگلا مرحلہ یونان تھا جہاں انہیں کئی دن رکنا پڑا اور اس دوران انہیں سارا وقت ایک فلیٹ میں بند ہو کر گزارنا تھا۔ وہ سارا دن کمپیوٹر گیم کھیلتے رہتے۔ وہ باہر نہیں جا سکتے تھے اور انہیں اب تک یہ نہیں پتہ تھا کہ جہاں وہ رکے تھے اس شہر کا نام کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں اٹلی تک کا سفر ایک کشتی میں کیا۔ اسی دوران انہیں اپنے سفر کی سب سے بڑی آزمائش سے گزرنا پڑا۔ انہیں کشتی کے اس تنگ حصے میں بند کیا گیا جو اوزاروں کے لیے مخصوص تھی اور اس میں صرف اتنی ہی جگہ تھی کہ وہ ایک دوسرے سے چپک کر اس طرح لیٹے ہوئے تھے کہ جب انہیں بھوک لگی تو وہ اپنے ہاتھ کھانے کے چیزوں تک بھی نہیں لے جا سکتے تھے اور یہ سفر پندرہ گھنٹے تک جاری رہا۔

اس پر مزید یہ کہ سردی اس قدر شدید تھی کہ انہیں اپنی ریڑھ کی ہڈیاں پتھر کی طرح اکڑی محسوس ہونے لگیں۔

جب وہ اٹلی کے شمال کی طرف جا رہے تو سردی مزید شدید ہو گئی۔ اسی سردی میں انہیں کئی راتیں میلان سٹیشن کے باہر کھلی کھردری زمین پر گزارنا پڑیں۔

آخر انہیں فرانس جانے والی ٹرین میں سوار ہونے کا موقع مل گیا۔ یہاں سے وہ الگ الگ ہو گئے۔ احمد اس قدر تھکے ہوئے تھے کہ جیسے ٹرین میں داخل ہوئے سو گئے اور ان کی آنکھ اس وقت کھلی جب انہیں پولیس نے حراست میں لینے کے لیے جگایا۔

ٹرین سے لے جا کر انہیں فرانس کی پولیس نے جنگل میں بنائے گئے ایک ایسے کیمپ میں رکھا جو غیر قانونی تارکین کے لیے بنایا گیا تھا۔

اس کیمپ کو فرانسیسی حکام نے گزشتہ ستمبر میں بند کیا ہے۔

اسی دوران وہ کیمپ سے بھاگ نکلے اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس نے ان پر آنسو گیس پھینکی اور اس کے بعد انہیں ایک فرانسیسی خاندان کی نگرانی میں دے دیا گیا۔

لیکن احمد وہاں سے بھی بھاگ نکلے کیوں کہ منزل کے اس قدر قریب دیکھ کر وہ حوصلہ ہارنے پر تیار نہیں تھے۔

اس کے بعد انہوں نے چینل عبور کرنے کی دو ناکام کوششیں کیں۔ ایک کوشش تو فرانسیسی پولیس کے سکینروں نے ناکام بنا دی اور انہیں ایک کنٹینر کے عقب میں چھپے ہوئی دیکھ لیا اور دوسری بار وہ ایک لاری کے نیچے لٹکنے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن وہ لاری مخالف سمت جا رہی تھی۔

دونوں بار پولیس نے انہیں پکڑ کر واپس کیلے کیمپ بھیج دیا۔

تیسری بار ان کی کوشش اس لیے کامیاب ہوگئی کے انہیں کھیلوں کے سامان کے ڈھیر میں چھپا دیا گیا تھا اور اس ڈھیر کے نیچے وہ اکیلے ہی نہیں تھے ان کے ساتھ اور لڑکے بھی تھے۔

لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گئے اور ان کے دوسرے ساتھیوں میں چار کو سکینروں اور پولیس کے کتوں ڈھونڈ نکالا۔

احمد بتاتے ہیں ’جب تک لاری جہاز کے ذریعے اس طرف کی بندرگاہ سے باہر نہیں نکلی میں سامان کے نیچے دم سادھے پڑا رہا۔ میرا خیال تھا کہ شاید میں اکیلا ہی ہوں لیکن میں اکیلا نہیں تھا میرے ساتھ چار اور لڑکے بھی تھے جو میری ہی طرح سامان کے نیچے مختلف جگہوں پر چھپے ہوئے تھے۔‘