نیویارک بم پلاٹ: دو اور حراست میں

امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ نیو یارک شہر میں بم نصب کرنے کی سازش کی تحقیقات کے نتیجے میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ان افراد کو جمعہ کی صبح ایف بی آئی نے بقول حکام کے ’مبینہ بم سازش سے متعلق پہلے سے جاری تحقیقات کے ضمن میں‘ حراست میں لیا ہے۔
ان دونوں افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ افغان نژاد امریکی شہری نجیب اللہ زازی کے ساتھی ہیں۔
زازی پر الزام ہے کہ انھوں نے نیو یارک میں بم حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ زازی اور ان کے دو ساتھیوں پرگزشتہ برس ستمبر میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
تمام ملزمان اپنے خلاف الزامات سے انکاری ہیں۔
نیویارک کی گرینڈ جیوری میں چوبیس سالہ نجیب اللہ زازی پر وسیع تباہی کے ایک یا زیادہ ہتھیاروں سے امریکہ پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مسٹر نجیب اللہ زازی سن انیس سو ننانوے سے قانونی طور پر امریکہ میں مقیم ہیں اور انھوں نے مبینہ طور پر گزشتہ سال پاکستان سے بم بنانے کی تربیت حاصل کی تھی۔
ان کے ساتھ نیویارک سے گرفتار ہونے والے پیش امام احمد افضالی پر تفتیش کاروں سے جھوٹ بولنے کا الزام لگایا گیا ہے اور انہیں دس لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نجیب اللہ زازی کے والد محمد زازی کو پہلے ہی ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔





















