کرزئی چین کے سرکاری دورے پر
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے چین کا سرکاری دورہ شروع کردیا ہے جس میں وہ صدر ہو جن تاؤ اور چین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں میں چین سے تجارتی شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیں گے۔ صدر کرزئی منگل کو دیر گئے بیجنگ پہنچے تھے۔

افغان صدر اپنے تین روزہ دورے میں چینی رہنماؤں سے اپنی ملاقاتوں میں جنگ زدہ ملک کی معیشت کی بحالی کے لیے چین کی سرمایہ کاری پر گفتگو کریں گے۔
دوسری جانب بیجنگ کے پاس سرمائے کی کمی نہیں ہے اور وہ افغانستان میں بڑی مقدار میں معدنیات کے ذخائر کو ترقی دینے میں دلچسپی بھی رکھتا ہے۔
کاروباری معاملات کے علاوہ چین کو افغانستان کی سرحد سے جڑے اپنے شینکیانگ صوبے میں شدت پسندی کے بارے میں بھی تشویش ہے۔ جس پر افغان صدر سے تبادلہ خیال ہوگا۔
بیجنگ سے بی بی سی کے نامہ نگار مائیکل برسٹو کا کہنا ہے کہ مسائل سے گھرا افغانستان، چین کے اس صوبے کے استحکام کے لیےخطرناک ہوسکتا ہے۔
اس دورے میں صدر کرزئی تجارت اور کاروباری شخصیات کو ہمراہ لائے ہیں۔ جو چین کی سرماریہ کاری کے مجوزہ سودوں پر دستخط کریں گے۔
ایسوسی ایٹڈ نیوز ایجنسی کے مطابق بیجنگ کے پیپلزگریٹ ہال میں صدر کرزئی کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدر ہو کا کہنا تھا کہ وہ اہم عالمی اور علاقائی امور کے علاوہ دوطرفہ دلچسپی کے معاملات پر تبادلۂ خیالات کریں گے۔
چین کی ایک کمپنی دو ہزار سات میں افغانستان میں تانبے کے ذخائر کی ترقی کے لیے ایک ٹینڈر حاصل کر چکی ہے۔
کابل کے جنوب میں واقع لوگر صوبے میں بڑی مقدار میں پائے جانے والے تابنے کے ان ذخائر کوترقی دینے کے منصوبے کے لیے چین کی دھات کاری کی سرکاری ایجنسی نے تین ارب ڈالرز کی سرمایہ کا وعدہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ افغانستان قد رتی گیس اور لوہے کے ذخائر کے بارے میں بھی چین سے گفت و شنید کرنا چاہتا ہے۔
صدر کرزئی اپنے دورے کے دوران بیجنگ کی یونیورسٹی میں خطاب کریں گے۔




















