افغان صدر کی بیان بازی غیر ضروری ہے‘

حامد کرزئی
،تصویر کا کیپشنافغان صدر نے اقوام متحدہ اور مغربی طاقتوں پر افغانستان کے صدارتی انتخابات کی ساکھ کو خراب کرنے کا الزام لگایا

امریکی وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے حالیہ بیان پر ناراضی کا اظہار کرتے افغان رہنما کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے’منفی‘ بیان بازی کا سلسلہ جاری رکھا تو ان کا طے شدہ دورہ امریکہ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے کہا کہ اگر افغانستان کے صدر حامد کرزئی غیر ضروری بیان سے باز نہ آئے تو ان کا طے شدہ امریکی دورہ منسوخ کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا ردعمل افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی اس تقریر کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اقوام متحدہ اور بعض مغربی طاقتوں پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے افغانستان کے صدراتی انتخاب کی ساکھ کو خراب کیا اور وہ انتخابی دھاندلی کے ذمہ دار تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے کہا کہ افعانستان کے صدر کے بیانات تکلیف دہ ہیں اور یہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں اس لیے ہے کہ اس کی سرزمین سے امریکہ پر حملے ہوئے جن میں ہزاروں لوگ اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان امریکی مرد اور عورتین افغانستان میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان کے صدر کا دورہ امریکہ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگا لیکن اگر فغانستان کے صدرنے بیانات کا سلسلہ جاری رکھا تو پھر یہ دورہ منسوخ کرنے کا جائزہ جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا امریکہ کی پالیسی ہے کہ جو افغان رہنما بدعنوانی کے خاتمے اور شفاف حکومت مہیا کرنے کی سہی کرے گا اسے اچھے الفاظ سننے کو ملیں گے لیکن جو منفی بیان بازی کرے گا اسے سخت الفاظ بھی سننے پڑیں گے۔

پروگرام کے مطابق افغان صدر مئی میں امریکہ کا سرکاری دورہ کریں گے اور بارہ مئی کو وہ امریکی صدر سے ملاقات کریں گے۔

افعانستان صدر کو امریکی دورے کی دعوت صدر براک اوباما نے اپنے حالیہ دورہ افعانستان کے دوران دی تھی۔

امریکی حکومت کی صدر کرزئی سے ناراضی صرف انتخابی عمل پر تنقید ہی نہیں بلکہ انہوں نے افغانستان کے قانون سازوں سے ایک ذاتی ملاقات کے دوران دھمکی دی تھی کہ اگر امریکہ نے ان پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ طالبان کی تحریک میں شامل ہو جائیں گے۔