’حامد کرزئی کا بیان پریشان کن ہے‘

کرزائی کے بیان کو اقوام متحدہ کے سابق سفیر پیٹر گیلبرتھ نے بھی مسترد کر دیا تھا امریکہ نے کہا ہے کہ وہ افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے غیر ملکی مبصرین پر افغان صدارتی انتخابات کےدوران بدعنوانیوں کے الزامات کے بارے میں وضاحت طلب کرے گا۔

صدرحامد کرزائی نے جمعرات کو اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے حکام پر گزشتہ سال افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دوران بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے صدر حامد کرزئی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو ’تکلیف دہ‘ قرار دیا ہے۔

ان انتخابات کے دوران ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مرحلے میں دس لاکھ سے زیادہ ووٹ جو حامد کرزئی کو ڈالے گئے تھےمسترد کر دیئے گئے تھے۔

کابل میں ایک تقریر کے دوران حامد کرزئی نے کہا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ سال ہونے والے صدارتی اور صوبائی انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی تھی۔

انھوں نے اُس وقت کابل میں اقوام متحدہ کے نائب سربراہ پیٹر گیلبرتھ اور یورپی یونین کے سربراہ فلپ موریلون کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

رابرٹ گبز نے کہا کہ حامد کرزئی کا بیان تشویش کا باعث ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ صدر حامد کرزئی سے اس بیان کی نوعیت کے بارے میں وضاحت طلب کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صدر اوباما نے صدر کرزئی سے واضح طور پر ان اقدامات کے بارے میں بات کی تھی جو افغانستان میں کرپشن کو ختم کرنے اور حکومت کے طور طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

گزشتہ ہفتے صدر اوباما نے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کا پہلا دورہ کیا تھا۔

اس دورے سے ایک طرف تو افغانستان کے لیے امریکہ کی امداد جاری رکھنے کا پیغام دیا گیا تھا تو دوسری طرف اس سے صدر اوباما کو صدر کرزئی سے افغانستان کے مسائل پر بات کرنے کا موقع ملا تھا۔

صدر کرزئی اور افغان پارلیمنٹ میں اس وقت افغانستان کے الیکشن کمیشن میں تعیناتیاں کرنے کے معاملے پر کشمکش جاری ہے۔

صدر حامد کرزئی کو صدراتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کامیاب قرار نہیں دیا گیا تھا لیکن دوسرے مرحلے میں ان کے مد مقابل کے دستبردار ہو جانے کے بعد انھیں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔