’پاکستان کے کردار کا اعتراف‘

افغانستان کے صدر حامد کرزائی نے ایک مرتبہ پھر طالبان کے ساتھ مجوزہ مفاہمتی عمل میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا ہے اور اس عمل میں پاکستان کو شریک کرنے کی بات کی ہے۔

صدر حامد کرزائی نے اپنے دورۂ امریکہ کے دوران یونائٹڈ اسٹیٹ انسٹیٹوٹ آف پیس میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے ساتھ ایک مذاکرے میں کہا کہ افغانستان میں مفاہمت کے ساتھ ساتھ ہزاروں طالبان فوجیوں کے معاشرے اور معمول کی زندگی میں شمولیت یا انضمام کا عمل دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں۔

انھوں نے کہا ’مفاہمت طالبان قیادت سے کی جانی ہے جو کہ ہماری پہنچ سے دور اور زیادہ تر ہمارے ہمسایہ ملک پاکستان میں موجود ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں پاکستان کو بھی شریک کرنا ہو گا کیوں کہ اس عمل کا تعلق بہت سے علاقائی مسائل سے بھی ہے۔

صدر حامد کرزائی نے کہا کہ طالبان سے مفاہمت ایک بہت ہی دشواراور پیچیدہ عمل ہوگا جس میں کافی وقت لگ سکتا ہے جب کہ طالبان فوجیوں کے معاشرے میں انضمام پر فوری طور پر کام شروع کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کا مطالب ان ہزاروں طالبان فوجیوں کی گھروں کو واپسی ہے اور ان کا جنگ سے تعلق توڑنا ہے جو حالت کی وجہ سے اس طرف دھکیل دیئے گئے۔ انھوں نے کہا ’ایسے حالت جن پر ان کا بس تھا نہ ہمارا۔‘

انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کے ایسے عناصر کے ہاتھوں میں چلے جانے میں جنھوں نے انھیں اسلحہ فراہم کیا اور جنگ پر آمادہ کیا کچھ ان کی اور ان کے اتحادیوں کی غلطیوں کا بھی دخل ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ہزاروں طالبان نظریاتی طور پر ان کے اور امریکہ کے مخالف نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ دیہاتی لڑکے ہیں جو امریکہ سے نفرت نہیں کرتے اور اگر انھیں امریکہ آنے کا موقع ملے تو وہ امریکہ ضرور آئیں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے ملک اور اپنی حکومت سے بھی نفرت نہیں کرتے اور جنھیں ملک کے آئین پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو قومی دہارے میں شامل کیا جائے۔

اسی ضمن میں وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں صدر حامد کرزائی اور ان کے خیالات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ انضمام کے عمل کے لیے کچھ شرائط ہوں اور ہر کوئی اس میں شامل نہیں ہو سکے صرف ان لوگوں کو اس عمل میں شامل کیا جائے گا جو کچھ شرائط پوری کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے صدر حامد کرزائی کو امن جرگہ منقعد کرکے لوگوں کے خیالات کو سننا ہو گا کہ وہ کیا کہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد ہی یہ عمل شروع کیا جا سکے گا۔ طالبان کی قیادت سے مفاہمت کے عمل کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس پر بہت غور و خوض کرنا ہو گا کہ آخر مفاہمتی عمل ہو کیا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق کئی طالبان راہنما کسی صورت بھی امریکہ سے بات نہیں کرنا چاہتے اور امریکہ سے شدید نفرت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چاہے مفاہمتی عمل ہو یا طالبان جنگجوؤں کو قومی دہارے میں شامل کرنے کی بات صرف ان ہی لوگوں سے بات کی جائے گی جو تشدد کر ترک کرکے آئین اور قانون کی پاسداری کریں اور القاعدہ اورشدت پسند عناصر سے اپنے تمام تعلقات ختم کر دیں۔