تیل: ’صفائی کئی سال ہو گی‘

تیل فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنگیارہ ہزار بیرل تیل ابھی بھی زیرِ زمین کنویں میں ہے

امریکی کوسٹ گارڈز کے سربراہ نے کہا ہے کہ خلیجِ میکسیکو زیرِ سمندر واقع تیل کے کنویں سے تیل کے رساؤ کی صفائی کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ایڈمرل تھیڈ ایلن نے کہا کہ برٹس پیٹرولیئم کو چاہیے کہ وہ اس تیل کے رساؤ کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد اور کاروبار کو معاوضہ ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ گیارہ ہزار بیرل تیل ابھی بھی زیر زمین کنویں میں ہے۔

تیل کی صفائی کے آپریشن کے رابطہ کار ایڈمرل ایلن نے میڈیا کو بتایا کہ تیل کی صفائی میں مزید چند ماہ لگیں گے لیکن ماحولیاتی آلودگی کو دور کرتے ہوئے کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بی پی نے کنویں سے رسنے والے تیل کو نکالنے کا کام دگنا کردیا ہے اور اب کمپنی کوشش کر رہی ہے کہ تیل کو مزید تیزی سے نکالا جائے اور جس جگہ سے تیل رس رہا ہے ان سوراخوں کو بند کیا جائے۔

یاد رہے کہ امریکی تاریخ میں تیل کے رساؤ کا یہ بدترین واقعہ اس وقت پیش آیا جب برٹش پیٹرولیم کی ایک رِگ جسے سمندر کی تہہ میں سوراخ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، دھماکے سے ٹوٹ گئی تھی۔

کنویں سے رسنے والا تیل امریکی ریاست لوزایانا کی ساحلی پٹی پر ستر میل تک پھیل گیا ہے جس کی وجہ سے ساحل پر قدرتی حیات کی تباہی کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ علاقے میں ماہی گیری بنیادی صنعت ہے جس کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے سخت الفاظ میں کہا کہ وہ ماہرین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس حوالے سے کس کو قیمت چکانا پڑے گی۔

انہوں نے این بی سی نیٹ ورک کو انٹرویو میں کہا ’میں ایک ماہ قبل وہاں گیا تھا اور میں اس وقت گیا تھا جب آج بولنے والے اس کی طرف توجہ بھی نہیں دے رہے تھے۔ میں صرف بیٹھ کر باتیں نہیں کرتا جیسے کسی کالج کا سیمینار ہو۔ میں ان ماہرین سے بات کرتا ہوں جن کے پاس اس بات کا جواب ہو کہ کس کو اس حادثے کی قیمت ادا کرنی ہو گی۔‘