امریکہ کا ’درویش‘ جنرل، سٹینلے میکرسٹل

جنرل سٹینلی میک کرسٹل
،تصویر کا کیپشناپنی تقرری کے فوری بعد جنرل میک کرسٹل کو احساس ہو گیا کہ انھیں بہت بڑا کام سونپا گیا ہے

حالیہ امریکی سیاست اور عسکری امور میں جنرل میک کرسٹل ایک ایسے کردار کی طرح ابھرے ہیں جن کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ ایک حقیقی کردار ہیں یا ہالی ووڈ کے ہیرو۔

سنہ دو ہزار نو سے افغانستان میں امریکی فوج کے سالار جنرل سٹینلی میک کرسٹل براک اوباما کے عہدۂ صدرات سنبھالنے کے بعد افغانستان میں موجودہ منصب پر تعینات ہونے والے پہلے افسر ہیں۔

طالبان عسکریت پسندوں سے جنگ کرنے والے امریکی فوج کے اس کمانڈر کے ساتھ امریکی میڈیا کا رویہ عمومی طور پر ہمدردانہ رہا ہے۔

جنرل میک کرسٹل نے اس عرصے میں اپنا ایک تصور بنا لیا ہے جو ایک درویش جنگجو کا ہے۔

جنرل میک کرسٹل انیس سو چون میں ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے اور انھوں نے امریکی فوجی اکیڈمی سے گریجوایشن کی۔ اگلے تیس برس تک وہ امریکی فوج کے مختلف آپریشنز میں شریک رہے جن میں انھوں نے کارروائیوں کی قیادت بھی کی۔ ان کارروائیوں میں روایتی اور سپیشل آپریشنز بھی شامل ہیں اور خلیج کی جنگ بھی۔

ستمبر دو ہزار تین میں انھیں جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ (جے ایس او سی) کا کمانڈنگ جنرل بنا دیا گیا۔ اس ادارے کا کام امریکہ سے باہر ممالک میں امریکی فوجی مشنز کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد تھا۔ سنہ دو ہزار سات میں ان ترقی دے کر کمانڈر بنا دیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ جنرل میک کرسٹل نے (جے ایس او سی) میں اپنے دور میں سی آئی اے، اور دیگر خفیہ اور فوجی اداروں کے ساتھ گہرے تعلقات بنائے حالانکہ اس سے پہلے (جے ایس او سی) روایتی طور پر ایسی سرگرمیوں سے دور رہتی تھی۔

سنہ دو ہزار سات میں جنرل میک کرسٹل کی شہرت پر اس وقت داغ لگا جب تین سال قبل افغانستان میں آرمی رینجرز کے ہاتھوں سابق این ایف ایل کے فٹبال سٹار کارپورل ٹل مین کی حادثاتی ہلاکت پر پینٹاگون کی ایک تحقیق میں ان پر الزام لگا کہ انھوں نے نادرست اطلاعات فراہم کیں۔ جنرل میک کرسٹل نے کہا تھا کہ ٹل مین دشمن کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ تاہم فوج نے اپنے جنرل کو سزا نہیں دی۔

سیاسی افق پر کم از کم دو مرتبہ ان میں اور صدر براک اوباما کے درمیان اختلافی صورت نظر آئی ہے۔

گزشتہ برس موسمِ خزاں میں، صدر اوباما نے جنرل میک کرسٹل سے افغانستان میں مزید فوج کی خواہش کے کھلے عام اظہار پر سوال و جواب کیے تھے۔

اور اب ماہِ رواں میں انھیں واشنگٹن طلب کیا گیا ہے کیونکہ رولنگ سٹون نامی میگزین کے ساتھ ایک انٹرویو میں جنرل میک کرسٹل اور ان کے قریبی ساتھیوں نے اوباما انتظامیہ کا مذاق اڑایا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ جنرل میک کرسٹل کے انٹرویو کے بعد ان کی اصابتِ رائے اور قیادت کے انداز پر مزید سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

اپنی تقرری کے فوری بعد جنرل میک کرسٹل کو احساس ہو گیا کہ انھیں بہت بڑا کام سونپا گیا ہے۔ گزشتہ اگست میں انھوں نے وائٹ ہاؤس کو صورتِ حال کے بارے میں جو مایوس کن تجزیہ دیا تھا کہ اگر مزید فوج افغانستان نہ بھیجی گئی اور افغان سکیورٹی فوج کی تربیت تیزی سے نہ ہوئی تو اگلے بارہ مہینوں میں امریکی مشن ناکام ہو جائے گا۔

جنرل میک کرسٹل نے اس سال فروری میں افغانستان کے صوبے ہلمند میں ایک بڑی کارروائی کی نگرانی کی ہے جس ’آپریشن مشترک‘ کا نام دیا گیا۔ قندہار میں ایک اور بڑی کارروائی ہونی ہے اور بقول جنرل میک کرسٹل کے ’ہم قندہار لے لیں گے تو یہ افغانستان کی کامیابی کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا۔‘