’برطانوی فوج کا پانچ برس میں انخلاء‘

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیویڈ کمرون نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان سے برطانوی فوج کو آئندہ پانچ سال کے اندر نکال لیا جائے۔

ڈیویڈ کیمرون سے جو ان دنوں جی ایٹ کے سربراہ اجلاس کے سلسلے میں کینیڈا میں ہیں جب یہ پوچھا گیا کہ کیا برطانیہ میں اگلے عام انتخابات سے پہلے وہ برطانوی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلانا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا ہی چاہتے ہیں اور اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما سے ہفتے کے روز ملاقات سے پہلے انہوں نے کہا کہ وہ نظام الاوقات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

کینیڈا میں ایک ٹی چینل کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں برطانوی فوج کو نو سال ہو چکے ہیں اور یہ مزید پانچ اور وہاں تعینات نہیں رہ سکتی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ افغانستان سے برطانیہ کے روابط لمبی مدت کے لیے ہیں اور وہاں سے فوجوں کی بڑی تعداد کے واپس بلائے جانے کے بعد بھی برطانیہ سکیورٹی فورسز کی تربیت اور معاشرتی ترقی کے لیے مدد فراہم کرتا رہے گا۔

برطانوی وزیر اعظم کے معاونین نے وضاحت کی کہ وزیر اعظم فوجیوں کو واپس بلانے کے لیے کسی نظام الاوقات کا تعین نہیں کر رہے۔

امریکی صدر براک اوباما افغانستان میں امریکی فوجیوں میں کمی کا عمل اگلے سال موسم گرما سے شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن جنرل ڈیویڈ پیٹریئس اور دیگر امریکی جرنیلوں کا خیال ہے کہ اس بات کا فیصلہ زمینی صورت حال کو دیکھ کر کیا جانا چاہیے۔

ڈیویڈ کیمرون سے جب یہ پوچھا گیا کہ امریکی صدر کا اس بارے میں کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ فوجیوں کے انخلا کی کوئی حتمی تاریخ نہ دی جائے بلکہ افغانستان کے حالات تھوڑے مستحکم ہونے دیا جائے تاکہ افغان عوام اپنا ملک خود چلانے کے قابل ہو سکیں۔

دو ہفتے قبل ڈیویڈ کیمرون نے ارکان پارلیمان سے کہا تھا کہ برطانوی فوج افغانستان میں ضرورت سے زیادہ ایک دن بھی نہیں گزاریں گی اور جس دن وہاں سے فوجیوں کا انخلاء ممکن ہوا انھیں واپس بلا لیا جائے گا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کو بتایا گیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کا خطرہ کم ہوا ہے لیکن اگر فوری طور پر فوجوں کو واپس بلالیا گیا تو وہاں پر یہ خطرہ دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے۔