میک کرسٹل برطرف، افغانستان کی کمان پیٹریئس کو سپرد

امریکہ کے صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل کو امریکی حکومت کے اعلی اہلکاروں اور افغانستان میں امریکی سفیر کو تنقید کا نشانہ بنانے کی پاداش میں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
جنرل میک کرسٹل کی جگہ جنرل ڈیویڈ پیٹریئس کو افغانستان میں جاری جنگ کی کمان سونپ دی گئی ہے۔ جنرل ڈیویڈ پیٹریئس نے عراق میں امریکی فوج میں اضافے کے بعد کی جانے والی یلغار کی کمان کی تھی۔
صدر اوباما نے افغانستان کی فوجی کمان میں اس تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک شخص کی تبدیلی ہے، یہ پالیسی کی تبدیلی نہیں ہے۔
جنرل میک کرسٹل نے برطرفی کے بعد ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے استعفی اس خواہش کے ساتھ دیا ہے کہ افغانستان میں امریکی مشن کامیابی سے ہمکنار ہو۔
جنرل میک کرسٹل کی برطرفی کا اعلان بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما سے ان کی ایک مختصر ملاقات کے بعد کیا گیا جس میں اس آرٹیکل پر بات ہوئی جو امریکی جریدے رولنگ سٹون میں شائع ہونا ہے اور جس میں انھوں نے اوباما انتظامیہ کے اعلی عہدے داروں اور افغانستان میں امریکی سفیر کے بارے میں تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔
صدر اوباما نے کہا کہ انھوں نے جنرل میک کرسٹل کو برطرف کرنے کا فیصلہ انتہائی افسوس کے ساتھ کیا ہے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ فوج کے اعلی ترین کمانڈر جس روئیے کی توقع کی جاتی ہے جنرل میک کرسٹل اس پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔
صدر اوباما نے مزید کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ قومی سلامتی کے لیے یہ ایک درست فیصلہ ہے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ ’ انھوں نے یہ فیصلہ کسی پالیسی پر اختلاف کی وجہ سے نہیں کیا اور نہ ہی یہ فیصلہ اپنی بے عزتی کے احساس کے تحت کیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

جنرل میک کرسٹل نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ افغانستان میں صدر اوباما کی حکمت عملی سے پوری طرح متفق ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں اور وہ اتحادی فوج اور افغان عوام کے بھی پوری طرح ساتھ ہیں۔
بی بی سی کے واشنگٹن میں نامہ نگار پال ایڈم اپنے تجزئے میں کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کسی پالیسی اختلاف کی وجہ سے نہیں کیا گیا اور جنرل میک کرسٹل نے اس متنازعہ آرٹیکل میں بھی افغانستان میں امریکی پالیسی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے جو کہ ان کی اپنی وضع کردہ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ افغان حکومت ڈیویڈ پیٹریئس کے ساتھ کام کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور جنرل پیٹریئس سے صدر کرزئی اچھی طرح واقف ہیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکی فوج کی کمان سے افغانستان میں فوجی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
جنرل میک کرسٹل نے اس آرٹیکل میں ان سے منسوب کیے گئے پر بیان پر پہلے ہی معذرت کر لی تھی۔ اس بیان میں انھوں نے اوباما انتظامیہ کو واضح تنقید کا نشانہ بنایا۔
رولنگ سٹون میگزین کے لیے یہ آرٹیکل ’دی رن آوے جنرل‘ کے عنوان سے فری لانس صحافی مائیکل ہیسٹنگ نے تحریر کیا ہے اور رواں ہفتے کے آخری میں شائع ہونے والے جریدے میں یہ آرٹیکل شامل ہو گا۔
اس آرٹیکل میں جب جنرل میک کرسٹل سے امریکی نائب صدر جوبائڈن کے بارے میں پوچھا گیا تو ’انھوں نے کہا کہ وہ کون ہے۔‘ اس طرح کابل میں امریکی سفیر کارل ایکنبری کے بارے میں جنرل میک کرسٹل نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کارل ایکنبری نے انھیں دھوکہ دیا ہے۔
اوباما انتظامیہ میں شامل قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز کے بارے میں جنرل میک کرسٹل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک جوکر ہیں جو انیس سو پچاس میں پھنسا ہوا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کی ای میلز کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا وہ تو اب انھیں دیکھتے بھیں نہیں۔
اس آرٹیکل میں صدر اوباما کے خلاف بھی تنقیدہ لب و لہجہ اپنایا گیا۔
صدر اوباما کے ساتھ ایک سال قبل ہونے والی ملاقات کے بارے میں میک کرسٹل کے ایک معتمد نے کہا کہ وہ تو صرف تصویرین بنانے کا بہانا تھا۔
جنرل میک کرسٹل کے ایک نائب ڈنکن بوتھبائی جنھوں نے رولنگ سٹون کے صحافی سے جنرل میک کرسٹل کی ملاقات کروائی تھی انھوں نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔







